وزیر تعلیم شفقت محمود کا طلبا کے امتحانات بارے بڑا اعلان

وزیر تعلیم شفقت محمود کا طلبا کے امتحانات بارے بڑا اعلان وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کو مطلع کیا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اس سال کسی بھی طالب علم کو امتحان پاس کیے بغیر اگلی کلاس میں

ترقی نہیں دی جائے گی۔ وفاقی وزیر نے چیئرمین میاں نجیب الدین اویسی کی سربراہی میں این اے کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس کو آگاہ کیا کہ حکومت ایک میٹرک ٹیک پراجیکٹ شروع کررہی ہے جس کے تحت طلبہ میں مختلف مہارتوں اور صلاحیتوں کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ہم آزمائشی بنیادوں پر 15 اسکولوں میں لیبارٹریز قائم کر رہے ہیں۔ شفقت محمود نے کہا کہ پچھلے سال طلباء کو بغیر کسی امتحان میں شرکت کے اگلی کلاس میں ترقی دی

گئی تھی، تاہم اس سال ہم اے لیول، او لیول کے ساتھ ساتھ نویں جماعت اور میٹرک کے امتحانات بھی منعقد کریں گے۔ میٹنگ کے دوران حیدرآباد انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنیکل اینڈ مینیجمنٹ سائنسز بل برائے 2020 اور پی اے ایف ائیر وار کالج انسٹی ٹیوٹ بل برائے2021 پیش کیا گیا۔ کمیٹی نے دونوں بلوں کا جائزہ لینے کے بعد انہیں منظور کرلیا۔ کمیٹی نے مالی سال 2021-22 کے لیے وزارت تعلیم کے مجوزہ پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کی رپورٹ کا بھی جائزہ لیا۔ وفاقی وزیر تعلیم نے کمیٹی کو پی ایس ڈی پی کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔

شفقت محمود نے اجلاس کو بتایا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ مدارس میں یکساں قومی نصاب پڑھایا جائے گا۔ اس کے لیے تقریباً4000 مدارس رجسٹرڈ ہوچکے ہیں۔ شفقت محمود نے کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار ہم نے یکساں قومی نصاب تیار کیا ہے، جسے پنجاب اور خیبر
پختونخوا نے اپنالیا ہے جبکہ بلوچستان نے بھی اسے قریب قریب اپنالیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک اسے سندھ نے نہیں اپنایا تاہم ان کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ آزادکشمیر اور گلگت بلتستان نے بھی یکساں قومی نصاب کو اپنالیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کالج آف آرٹس کی اپ گریڈیشن کے لیے منصوبہ تیار کیا جارہا ہے۔ کورونا وائرس کی وجہ سے اسکولوں کی بندش کے بارے میں شفقت محمود نے کہا کہ اسکولوں کی بندش کا فیصلہ آسان نہیں تھا۔ انتہائی ہلکے پھلکے انداز میں انہوں نے کہا کہ جہاں اسکول بند ہیں، وہاں بچے مجھے بادشاہ کہتے ہیں۔ شفقت محمود نے یہ بھی کہا کہ پاکستان تعلیم

کا ایک انسٹی ٹیوٹ بنا رہا ہے۔ کمیٹی نے بجٹ تجاویز کا جائزہ لینے کے بعد ان کی منظوری دے دی۔ اجلاس میں این سی ایس انسٹی ٹیوٹ آف سائنسز بل برائے2021 پر بھی غور کیا گیا۔ کمیٹی نے اس بل کو آئندہ اجلاس کے لیے موخر کردیا۔ ایم این ایز نے کمیٹی کی رکن مہناز اکبر عزیز کی جانب سے بچوں کو جسمانی سزا دینے پر پابندی عائد کرنے کا بل پیش کرنے پر ان کی کاوشوں کو سراہا، اس بل کو قومی اسمبلی نے منظور کرلیا ہے۔ کمیٹی کے چیئرمین نے ایم این اے مہناز اکبر کو مبارکباد پیش کی اور پارلیمنٹ کے ایوان زیریں کی طرف

سے بل کی منظوری کا خیرمقدم کیا۔ شفقت محمود نے اس موقع پر کہا کہ یہ ایک اچھا بل ہے۔ ایم این اے عندلیب عباس نے کہا ، ہم مہناز اکبر کی اس زبردست کوشش پر ان کی تعریف کرتے ہیں۔ مہناز اکبر نے کہا کہ یہ پاکستان کی بہت بڑی کامیابی ہے۔ اب یہ بل سینیٹ میں پیش کیا جائے گا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *