پیپلز پارٹی کے سَر پر ’ طاقتور حلقوں ‘ نے ہاتھ رکھ دیا ! زرداری خاندان اپنے مقصد میں کامیاب، (ن)لیگ پھر ہاتھ ملتی رہ گئی

سینئر صحافی عمران یعقوب کا کہنا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کو پی ڈی ایم سے الگ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی پی ڈی ایم سے جو مقصد حاصل کرنا چاہتی تھی وہ پورا ہوگیا ہے۔پیپلز پارٹی نے پہلے سینٹ میں یوسف رضا گیلانی کو سینیٹر منتخب کروایا۔چیئرمین سینیٹ بننے میں ناکامی کے بعد انہیں اپوزیشن لیڈر

بھی بنوا لیا۔سب سے بڑی بات یہ ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے پی ٹی آئی میں رہتے ہوئے طاقتور حلقوں کے ساتھ تعلقات بہتر کر لیے۔پاکستان پیپلز پارٹی کی کوشش ہے کہ وہ طاقتور حلقوں کو اس بات کا یقین دلا سکے کہ اگلے الیکشن میں وہ بھی متبادل کے طور پر موجود ہیں اگر وہ ہمارے سر پر ہاتھ رکھیں تو ہم ان کو ڈلیور کرکے دکھائیں گے۔اس لئے پیپلزپارٹی اپنے طور پر پی ڈی ایم کا کامیاب استعمال کر چکی ہے۔پی ڈی ایم طاقتور حلقوں

کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہی ہے کہ ہم آپ کے کہنے کے مطابق پرفارم کر سکتے ہیں۔سینئر صحافی و تجزیہ کار کے مطابق مسلم لیگ ن پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے اندر پیپلز پارٹی کے ساتھ پڑنے والی پھوٹ سے کافی خوش اور مطمئن ہے ، مسلم لیگ ن کے لئے بہتر یہی ہے کہ وہ پنجاب میں پیپلز پارٹی کو سپورٹ فراہم کرنے کے بجائے اکیلی اڑان اڑے ، کیوں کہ مسلم لیگ ن کی سپورٹ کے ذریعے پاکستان پیپلز پارٹی

پنجاب میں مزید طاقتور ہوسکتی تھی۔مسلم لیگ ن موجودہ صورتحال کو اپنی کمزوری بنانے کی بجائے اپنی طاقت بنانے جا رہی ہے ، پاکستان مسلم لیگ ن اپنے نمائندوں کے علاوہ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے پاکستان پیپلز پارٹی کے ناراض ممبران اور پی ڈی ایم میں دراڑ پڑنے کے بعد پریشان ہونے والے افراد سے بھی ملاقات کی منتظر ہے۔ عمران یعقوب خان نے کہا کہ پنجاب اسمبلی مین قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز نے بھی پارٹی کارکنوں اور قائدین سے دوبارہ رابطہ قائم کرنا شروع کردیا ہے ، کیوں کہ مسلم لیگ ن کی نئی پالیسی کے مطابق اب پارٹی وقت کو ضائع نہیں کرے گی اور کسی دوسری پارٹی کے لئے میدان خالی نہیں چھوڑے گی۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *