یہ دن بھی آنا تھا ، رمضان بازار سےشہریوں کو چینی کس طرح ملے گی ؟ جان کر آپ بھی بکھلا جائیں گے

یہ دن بھی آنا تھا ، رمضان بازار سےشہریوں کو چینی کس طرح ملے گی ؟ جان کر آپ بھی بکھلا جائیں گے پاکستانی اس وقت چینی اور آٹے کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں اور انہیں اس کی خریداری کیلئے لمبی لمبی قطاروں میں لگنا پڑ رہاہے ، اسی ضمن میں مریم نواز نے ایک اخباری تراشے کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے حکومت پر تنقید کے تیر چلا دیئے ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق مریم نوزشریف نے اخباری تراشے کی تصویر شیئر کی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ رمضان بازار سے سستی چینی خریدنے کیلئے لوگوں کی لمبی قطار لگی ہوئی ہے ، یہ تصویر لاہور کے علاقے وحد روڈ پر بنائی گئی ہے ۔مریم نواز نے تصویر کے ساتھ پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ ” لوگ چینی خریدنے کیلئے قطار بنائے کھڑ ے ہیں ، چینی خریدنے کے بعد ہر شخص کی انگلی پر پکی سیاہی سے نشان لگا دیا جاتاہے ،جعلی حکومت کا حقیقی چہرہ اس تصویر میں دکھائی دیتا ہے ۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق معاون خصوصی اطلاعات پنجاب فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ فواد چوہدری وزارت اطلاعات کے لیے بے چین تھے اور اس مقصد کی خاطر بیانات دیتے رہے تھے

۔نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فواد چوہدری کی خواہش پوری ہوگی اور وہ وزیر اطلاعات کے منصب پر واپس آگئے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ فواد چوہدری نے کسی اور کو وزیر اطلاعات کے طور پر نہیں چلنے دیا۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کی پالیسی وزیر اطلاعات کے علاوہ کوئی اور بیان کرنا شروع کر دیں تو وزارت اطلاعات کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے اور شبلی فراز کو وزارت سے ٹکرانے کی وجہ فواد چوہدری کا متحرک ہونا تھا۔فردوس عاشق اعوان نے مزید کہا کہ فواد چوہدری میں وزارت کو چلانے کی قابلیت ہے اب ان پر ذمہ داری بھی آ گئی ہے کہ وہ حکومت کا موقف سے انداز میں پیش کریں۔خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے فواد چودھری کو وزارت اطلاعات کا قلمدان سونپ دیا، فواد چودھری کو وزارت اطلاعات کا اضافی قلمدان سونپا گیا ،

وفاقی وزیر اطلاعات کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے فوادچودھری کو وزارت اطلاعات کا کام سنبھالنے کی ہدایت کی۔ جس کے بعد انہوں نے باقاعدہ وزیر اطلاعات کے طور پر کام شروع کردیا ہے۔وفاقی وزیر فوادچودھری کی کابینہ اجلاس پر میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ کابینہ کی سمریز اور قانونی مواد کو ڈیجیٹلائز کردیا گیا ہے۔ کابینہ سمریز پر سالانہ51 کروڑ روپے خرچ ہوتے تھے اس کی بچت ہوگی۔ اجلاس میں اسد عمر نے کورونا صورتحال پر بریفنگ دی۔ کورونا ویکسین کی درآمد سے متعلق کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ کورونا کی تیسری لہر پہلی لہر سے زیادہ خطرناک ہے۔ سندھ اور بلوچستان میں کورونا وائرس بڑھ رہا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.