’’تین ایسے گناہ جن کا عذاب اللہ موت سےپہلے ہی دنیا میں ضرور دے گا‘‘

’’تین ایسے گناہ جن کا عذاب اللہ موت سےپہلے ہی دنیا میں ضرور دے گا‘‘

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور یہ ادب المفرد کی روایت ہے 460 کل ذنوب یؤخرہ اللہ منھا ماشاء الی یوم القیامۃ اللہ ذوالجلال جس گناہ کی سزا کو چاہیں موخر کرسکتے ہیں تمام گناہوں میں سے بغاوت کا گناہ نافرمانی والدین کی اس کا گناہ رشتے داریوں کے ساتھ قطع تعلق کرنا

قطع رحمی کا گناہ موت سے پہلے اللہ ان تینوں گناہوں پر انسان کی پکڑ کر لیتے ہیںباقی گناہوں کو بسا اوقات موخر کردیتے ہیں کہ قیامت میں اس کی سزا دیں گے اور ہوسکتا ہے وہ توبہ بھی کر لے لیکن ان تینوں گناہوں کی پکڑ فورا ہوجاتی ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا

عذاب کے دو دروازے ہر وقت کھلے ہیں اور داخل کون ہوتا ہے ایک شخص جو بغاوت کرنے والا ہے اور اس سے پہلے وہ شخص جو والدین کا نافرمان ہوتا ہے وہ عذاب کے دروازوں میں اپنے آپ کو خود ہی لے جاتاہے کعب الاحبار کہا کرتے تھے اصل میں اللہ جلدی اس کو عذاب کیوں دیتے ہیں

یہ گناہ ہی اتنا بڑا ہے کہ اس کو جلدی ہی عذاب ملنا چاہئے کیونکہ اس نے اس وفا کو بیچا ہے اللہ ذوالجلال کے بعد جس وفا کی قدر کی اللہ نے تلقین کی ہے ۔اللہ تعالیٰ نے کائنات میں افضل اور اشرف مخلوق انسان کو بنایا ہے۔ والدین درحقیقت انسان کے دنیا میں آنے کا ذریعہ ہوتے ہیں،

ہمارا وجود والدین کی وجہ سے ہوتا ہے ، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے بھی والدین کے ساتھ حُسن سلوک کا حکم دیا اور ان کے حقوق کی ادائیگی کی تلقین کی ہے۔محبت کا جذبہ فطری طور پر بدرجہ اتم والدین کو عطا کیا گیا ہے۔اولاد کے لئے والدین دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہیں،والدین کی جس قدر عزت و توقیر کی جائے گی اسی قدر اولاد سعادت سے سرفراز ہوگی شریعت میں والدین کے ساتھ حُسن سلوک کا حکم دیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔مذکورہ

آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے جہاں اپنی عبادت کا حکم دیا اسی کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ والدین کے ساتھ حُسن سلوک کرو اور اُف تک بھی نہ کہو،والدین کی عزت واحترام دینی و دنیاوی بہتری کا سبب ہوتا ہے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کے سروں پر والدین کا سایہ ہے اور سعادت مند ہے وہ اولاد جو ہر حال میں اپنے والدین کے ساتھ حُسن سلوک رکھتی ہے اور ان کا احترام کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اور اللہ کی عبادت کرو ، اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ

، اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو ، نیز رشتہ داروں ، یتیموں ، مسکینوں ، قریب والے پڑوسی ، دور والے پڑوسی ، ساتھ بیٹھے ( یا ساتھ کھڑے ) ہوئے شخص اور راہ گیر کے ساتھ اور اپنے غلام باندیوں کے ساتھ بھی ( اچھا برتاؤ رکھو ) بیشک اللہ کسی اترانے والے شیخی باز کو پسند نہیں کرتا ۔ اللہ تعالیٰ مزید فرماتا ہے۔لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ وہ ( اللہ کی خوشنودی کے لیے ) کیا خرچ کریں؟ آپ کہہ دیجیے کہ جو مال بھی تم خرچ کرو

وہ والدین ، قریبی رشتہ داروں ، یتیموں ، مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہونا چاہئے ۔ اور تم بھلائی کا جو کام بھی کرو ، اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے ۔رسول کریم ﷺ نے بھی ہمیں والدین سے حُسن سلوک کا حکم دیا ہے آپﷺ نے فرمایا کیا میں تم کو سب سے بڑے گناہ بتلادوں؟ لوگوں نے عرض کیا، کیوں نہیں یارسول اللہ ﷺ، آپ ﷺ نے فرمایا، اللہ کا شریک نہ ٹھہرانا اورنہ والدین کی نافرمانی کرنا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.