پلیز میرے بابا کو ٹھیک کر دیں وہ اب بستر سے بھی نہیں اٹھ سکتے، ساڑھے پانچ سال کی اس بچی کے والد کو ایسا کیا ہوگیا جو معصوم بچی بلک اٹھی

پلیز میرے بابا کو ٹھیک کر دیں وہ اب بستر سے بھی نہیں اٹھ سکتے، ساڑھے پانچ سال کی اس بچی کے والد کو ایسا کیا ہوگیا جو معصوم بچی بلک اٹھی

پلیز میرے بابا کو ٹھیک کر دیں وہ اب بستر سے بھی نہیں اٹھ سکتے، ساڑھے پانچ سال کی اس بچی کے والد کو ایسا کیا ہوگیا جو معصوم بچی بلک اٹھی کراچی میں ایک بار پھر مون سون کی

ارشوں کا اغاز ہو چکا ہے جس پر کچھ لوگ بارش کو انجوائے کرنے کے پلان بنا رہے ہیں جب کہ کچھ افراد اپنی ٹوٹی چھتوں کو ٹپکنے سے روکنے کی فکر میں پریشان ہیں-بڑے بوڑھے ہمیشہ بارش کے

آغاز کے ساتھ ہی اس کے رحمت ہونے کی دعا کرتے تھے اور اس کی زحمت سے خود کو محفوظ رکھنے کی دعا کرتے تھے جس کی اصل سمجھ کامران کے خاندان کو دیکھ کر آتی ہے-کامران کا تعلق ایک

متوسط خاندان سے تھا وہ اپنی بیوی اور ساڑھے چار سال کی بیٹی کے ساتھ ایک خوشگوار زندگی گزار رہا تھا اس کی بیٹی اس کی آنکھوں کی رونق تھی۔ کام سے واپس آنے کے بعد اس کا سارا وقت اس کی بیٹی اور بیوی کے لیے ہوتا تھا-اپنی محدود آمدنی کے باوجود ایک پیار کرنے والے باپ کی طرح اپنی بچی کو بازار گھمانا اس کے ساتھ اس کو آئسکریم کھلانا اس کو بہت پسند تھا

اس کے بدلے میں اس کی بیٹی کی معصوم خوشی اس کی زندگی کا حاصل تھی۔ جب بھی اس کی بیٹی اپنی توتلی زبان میں اس سے کسی خواہش کا اظہار کرتی تھی کامران کے لیے وہ ایک حکم کا درجہ اختیار کر لیتی تھی -گزشتہ سال بارشیں

کامران کے نصیب میں کچھ امتحان لیے ہوئے آئیں جب کہ بارش کی وجہ سے کامران کو کرنٹ لگا جس کی شدت اتنی زيادہ تھی کہ اس کی وجہ سے دماغ میں خون جم گیا جس نے 32 سالہ کامران کو مفلوج کر دیا-گزشتہ ایک سال سے کامران بس اپنے بستر تک محدود ہو چکا ہے اس کے اندر اتنی طاقت بھی نہیں ہے کہ وہ ہاتھ اٹھا کر

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.