فلموں میں کام کے ایڈوانس پیسے لے کر سلطان راہی کہاں خرچ کیا کرتے تھے ؟ جان کر آپ بھی کہیں کہ وہ بندہ اللہ کا دوست تھا

فلموں میں کام کے ایڈوانس پیسے لے کر سلطان راہی کہاں خرچ کیا کرتے تھے ؟ جان کر آپ بھی کہیں کہ وہ بندہ اللہ کا دوست تھا

حسن عسکری نے بتایا کہ شوٹنگ کے تمام انتظامات مکمل ہوگئے تھے، میں گھر سے نکلا تو صبح کی سیر کے لئے، ہمارے ایک سینئر کیمرہ مین تھے، وہ ملے۔ انہوں نے کہا تم نے کچھ سنا ہے کہ سلطان راہی کو زخمی کردیا گیا ہے ۔

میں نے کہا وہ تو اسلام آباد گیا ہوا ہے۔ اس نے کہا کہ گوجرانوالہ میں اس کے ساتھ واقعہ ہوا ہے ۔ میں بہت پریشان ہوا اور کشمکش میں مرکزی سڑک تک پہنچ گیا اور سوچتا رہا کہ اب اس کو ٹھیک ہونے میں تین چار ماہ لگ جائیں گے،

پھر بڑے سرمایہ داروں کی فلمیں مکمل کرے گا اور پھر میری باری آئے گی مگر جب میں اسٹوڈیو پہنچا تو مجھے پتا چل گیا کہ اب میری باری کبھی نہیں آئے گی۔ اس روز سلطان راہی ہی نہیں

مرا، میری بھی موت ہو گئی۔ فلم انڈسٹری کے سینئر پروڈیوسر چوہدری ارشد علی وڑائچ نے بھی سلطان راہی کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ وہ سلطان راہی کے بارے میں کہتے ہیں کہ سلطان راہی پاکستان فلم انڈسٹری کابڑا نام ہے۔

جب تک پاکستان فلم انڈسٹری ہے، ان کا نام زندہ رہے گا۔ چوہدری ارشد علی وڑائچ بتاتے ہیں کہ میں نے ان کے ساتھ زیادہ فلمیں تو نہیں کیں، ان کے ساتھ دو فلمیں ایک ’’طاقتور‘‘ اور دوسری ’’بلاول‘‘ کی تھی۔ دونوں میں انہوں نے ٹائٹل رول کیا تھا۔ پاکستان فلم انڈسٹری میں تین شخصیات شوکت حسین رضوی، عنایت حسین بھٹی اور سلطان راہی کو میں نے بطور انسان بہت بلند مرتبہ پایا ہے۔ باقی سارے لوگ محمد علی سمیت نمائش کرتے تھے۔ فلم انڈسٹری میں ایسے ایسے لوگ بھی رہے ہیں اور ہیں۔ اگر انہوں نے کسی کو سوٹ بھی دینا ہے تو دوچار اخبار نویسوں کو بلا کر تصویر اتروا لیتے ہیں لیکن سوٹ پھر بھی نہیں دیتے۔ سلطان راہی ایک ایسا بندہ تھا جس نے غربت دیکھی تھی، وہ غریبی کاٹ کر اوپر آیا تھا اور اس کے پاس بہت پیسہ اکٹھا بھی ہو گیا تھا لیکن وہ پھر بھی انسانوں پر پیسہ خرچ کر دیتا تھا۔ ان کے دکھ درد میں ان کے کام آتا تھا۔ ایسا بہت کم ہوتا ہے۔ وہ نمائشی آدمی نہیں تھا۔ .

عنایت حسین بھٹی اور سلطان راہی دونوں ایسے لوگ تھے جنہوں نے بڑی محنت سے پیسے کمائے اور لوگوں کی مدد بھی کی۔ کبھی ان کی تشہیر نہیں کی۔ چوہدری ارشد علی وڑائچ نے بتایا کہ سلطان راہی نے بہت سے لوگوں کو پروڈیوسر بنا دیا جس کے پاس 5 ہزار بھی نہیں ہوتے تھے، اس کو بھی فلم شروع کرا دیتے تھے۔ جو بھی ان کے پاس گیا وہ خالی نہیں لوٹا۔ ایسی مثالیں بھی ہیں کہ وہ شوٹنگ کا پیسہ بھی دے دیا کرتا تھا۔ سلطان راہی کی صفتیں ساری دنیا جانتی ہے لیکن کوئی بات نہیں کرتا۔ وہ ایسا بندہ تھا کہ اگر مسجد کی تعمیر کے لئے ایک لاکھ درکار ہوتا تھا تو وہ دو پروڈیوسرز سے 50، 50 ہزار لے کر مسجد کی تعمیر کے لئے دے دیتا تھا۔ اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ جب اس نے بھٹی پکچرز کی فلم سائن کی تو اس نے مٹھائی تقسیم کی کہ آج میں نے بڑے بینر کی فلم سائن کی ہے، میں نے ان کے ساتھ زیادہ فلمیں نہیں کیں لیکن وہ بہت بڑا آدمی تھا۔ آج کے جتنے بھی بڑے ڈائریکٹر ہیں، ان سب کو اس نے بہت فائدہ دیا ہے۔ جب میں نے فلم ’’بلاول‘‘ شروع کی تو اس کی پہلے رمضان میں شوٹنگ شروع کی، میں نے ان سے کہا کہ میں نے عید پر فلم لگانی ہے، تو مجھے کہتے ہیں کہ میں تیار ہوں، باقی لوگوں سے پوچھ لیں۔ اس فلم میں ہمایوں قریشی اور انجمن بھی تھے۔ یہ ان کے عروج کا دور تھا۔ خیر فلم کی شوٹنگ شروع ہوئی اور 26ویں روزے کو فلم سنسر ہو گئی تھی۔ سب سے زیادہ محنت اور کوشش سلطان راہی نے کی تھی۔ ان کی وجہ سے باقی فنکار بھی مجبور ہو جاتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ راہی صاحب آ گئے ہیں

تو اب کام کرنا پڑے گا۔ شاید ہی کبھی ایسا ہوا ہو کہ ان کی وجہ سے شوٹنگ کینسل ہوئی ہو۔ راہی سے لوگ جیلس بھی بہت تھے کیونکہ وہ ہر کسی کے کام آتا تھا اور لوگ ان کی تعریف بہت کرتے تھے۔ بعض اوقات ان سے جیلس ہونے والے بھی فائدہ اٹھا لیتے تھے۔ حسن عسکری، اقبال کاشمیری، اسلم ڈار ایسے لوگ تھے جن کو سلطان راہی اپنی ڈائری ہی دے دیا کرتے تھے۔ میں ایورنیو پکچرز کو انڈسٹری میں باقاعدہ طور پر فلم کی فیکٹری سمجھتا ہوں۔ آغا جی اے گل نے فلم سائن کرنے کے لئے سلطان راہی کو بلایا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے فلم نہیں کرنی۔ سلطان راہی نے اس دور کے حساب سے بہت زیادہ پیسے مانگے تھے۔ آغا جی اے گل نے کہا کہ پیسے زیادہ ہیں تو سلطان راہی بھی اکڑ گئے اور انکار کر دیا لیکن آغا جی اے گل نے کہا کہ ایورنیو کے تیسرے فلور پر تھوڑی سی جگہ ہے، وہاں مسجد بنانی ہے تو سلطان راہی نے فوری فلم سائن کر لی۔ ہمارے لوگوں نے سلطان راہی سے بہت فائدے لئے ہیں لیکن سلطان راہی کی تعریف کرنے میں بہت کنجوسی سے کام لیتے ہیں۔ چوہدری ارشد علی وڑائچ نے بتایا کہ فلم انڈسٹری کی ہر ہیروئن کی خواہش ہوتی تھی کہ وہ سلطان راہی کے ساتھ کام کرے۔ سلطان راہی بنیادی طور پر ایک شریف آدمی تھا۔ اداکار اور فلمساز جاوید حسن (مرحوم)کے ساتھ ان کا بہت اچھا تعلق تھا، ان کے ساتھ مذاق بھی بہت کرتے تھے۔ جاوید حسن کی سلطان راہی

ے ساتھ شکل بھی ملتی تھی۔ جب کبھی اسے ضرورت ہوتی تھی وہ ان سے پیسے لے لیا کرتا تھااور واپسی تو کبھی ہوتی نہیں تھی۔ سلطان راہی اپنے کام میں بہت پکا تھا۔ اکثر اگر وہ کبھی دو ماہ کے لئے بھی ملک سے باہر جاتا اور واپسی پر اگر پارٹی نے شوٹنگ رکھ لی ہوتی تھی تو وہ وہاں سیٹ پر پہنچ کر کہتا تھا کہ ’’محمد سلطان راہی حاضر ہے۔‘‘ فلم انڈسٹری کی سینئر اداکارہ بہار بیگم کا سلطان راہی کی فلمی زندگی میں بڑا ہاتھ اور ساتھ رہاہے۔ بہار بیگم کہتی ہیں کہ سلطان راہی ایک طوفان تھا، وہ جب آ جاتا تھا تو ’’وخت‘‘ پڑ جاتا تھا۔ نہ وہ خود بیٹھتا تھا اور نہ کسی اور کو بیٹھنے دیتا تھا۔ میں نے اس کا نام ہی ’’دنیا کا آٹھواں عجوبہ‘‘ رکھا ہوا تھا۔ ناصر ادیب، سلطان راہی، آغا حسن عسکری، ان لوگوں نے جو کچھ مجھے کہا وہ میں نے کیا اور پھر ایک وقت وہ بھی آیا کہ سلطان راہی نے مجھے کہا کہ ’’ویڈیو فقرہ چھڈنا کتھے جے‘‘ میں نے بھی بولنا ہے۔ انہوں نے میری بڑی مدد کی تھی۔ اب میں انڈسٹری سے باہر کیوں آئی ہوں، اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں میں وہ جنون نہیں رہا۔سلطان راہی کی ایک دو فلمیں ہٹ ہو چکی تھیں، کئی مرتبہ ایسا ہوتا تھا کہ جہاں میں بیٹھی ہوتی ہوں وہ وہاں آ کر بیٹھتا ہے اور پھر چلا جاتا ہے۔ مجھے ایسا لگا کہ جیسے وہ مجھ سے دور دور رہتا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.