منافع بخش دھندے پرپابندی

چین کا بڑا فیصلہ؛ ٹیوشن کے نام پرتعلیم فروشی کے منافع بخش دھندے پرپابندی سکول کے بعد طلبہ کو ٹیوشن پڑھانے

والی کمپنیوں کاغیرمنافع بخش اداروں کے طور پر اندراج کیا جائیگا‘تعلیمی صنعت کیلئے بڑا دھچکا نئے ضوابط کے تحت ان اداروں کو اختتام ہفتہ پر،عام تعطیلات اور اسکولوں کی چھٹیوں میں کلاسیں لینے سے بھی روک دیا جائے گا بیجنگ ( چین نے ٹیوٹرنگ کمپنیوں کے ٹیوشن کے نام پر تعلیم فروشی

کے منافع بخش دھندے پر پابندی عاید کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سرکاری ذرائع ابلاغ کی شائع کردہ سرکاری دستاویزات کے مطابق چین میں اسکول کے بعد طلبہ کو ٹیوشن پڑھانے والی کمپنیوں کاغیرمنافع بخش اداروں کے طور پر اندراج کیا جائے گا اور اختتام ہفتہ اور چھٹیوں میں ان کے کلاسیں لینے

پر پابندی عاید کی جارہی ہے۔چین نے مسابقتی نظام تعلیم میں بچوں، والدین اور اساتذہ پر دباؤ کم کرنے کے مقصد کے تحت نئے قوانین متعارف کرائے ہیں اور یہ ملک کی اربوں ڈالر کی نجی تعلیمی صنعت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہیں۔چین کی اسٹیٹ کونسل اور کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کی

تحریرکردہ دستاویز کے مطابق چینی حکام اسکول کے بعد ٹیوشن پڑھانے والے نئے تعلیمی اداروں کے قیام کی منظوری دینا بند کر دیں گے اورتمام موجودہ تنظیموں یا اداروں کوغیرمنافع بخش کمپنیوں کے طور پر رجسٹر کیا جائے گا۔نئے ضوابط کے تحت ان اداروں کو اختتام ہفتہ پر،عام تعطیلات

اور اسکولوں کی چھٹیوں میں کلاسیں لینے سے بھی روک دیا جائے گا۔نیز تمام سرکاری محکموں سے کہا گیا ہے کہ وہ نئے ضوابط پراصل حالات کی روشنی میں باضابطہ طور پرعمل درآمد کریں۔چین میں اسکول کے بچّوں کو بدنامی کی حد تک بڑی مقدارمیں گھروں میں تعلیمی کام کرنے کو دیاجاتا ہے

اورغیرنصابی سرگرمیاں ان کے علاوہ ہوتی ہیں جو اکثر انھیں رات گئے تک جاگنے پر مجبورکردیتی ہیں کیونکہ والدین یہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے شدید مسابقتی اور امتحان مرتکزتعلیمی نظام میں بہترکارکردگی کا مظاہرہ کریں اور امتحانات میں اچھے نمبر لیں۔ کنسلٹنسی اورریسرچ فرم ایل ای کے مطابق اسکولوں میں اس طرح کے نظام تعلیم سے بڑے پیمانے پرٹیوٹرنگ کی نجی صنعت پیدا ہوچکی ہے۔2018ء میں اس کی مالیت 260 ارب ڈالر ہوچکی تھی۔لیکن چین میں حالیہ برسوں میں ضرورت سے زیادہ کام کے بوجھ اور’’اچھی‘‘تعلیم کے غیرضروری اخراجات زیربحث آئے ہیں اور بعض مقامی حکومتوں نے اس رجحان کی نفی کے لیے ہوم ورک کرفیونافذ کردیا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.