شام 6 بجے کے بعد گھر سے باہر نکلنے پر مکمل پابندی، پاکستان میں کورونا وائرس کی چوتھی لہر تباہی مچانے کو تیار

شام 6 بجے کے بعد گھر سے باہر نکلنے پر مکمل پابندی، پاکستان میں کورونا وائرس کی چوتھی لہر تباہی مچانے کو تیار

کراچی (ٹوڈے نیوز) عالمی وباء کورونا وائرس کی چوتھی لہر میں تیزی کے باعث کراچی میں شام 6 بجے کے بعد گھر سے باہر نکلنے پر مکمل پابندی لگانے کی ہدایت کردی گئی۔ تفصیلات کے مطابق شہر قائد میں کرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر

وزیر اعلیٰ سندھ کی جانب سے شہر میں شام 6 بجے کے بعد مکمل طور پر پابندی لگانے کی ہدایت کی گئی ہے ، سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کراچی میں شام 6 بجے کے بعد مکمل پابندی لگائی جائے ، کوئی غیر ضروری طور پر گھر سے باہر نہ نکلے ،

مجھے پتہ چلا ہے ٹیوشن سینٹرز چل رہے ہیں ان کو بھی فوری بند کریں ، جمعہ کے دن کرونا کی صورتحال کا دوبارہ جائزہ لوں گا اگر صورتحال میں بہتری نہ آئی تو مزید اقدامات کریں گے۔علاوہ ازیں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علہ شاہ نے صوبائی وزرا ناصر حسین شاہ،

بیرسٹر مرتضیٰ وہاب اور اویس شاہ پر مشتمل ایک کمیٹی بھی قائم کردی، انہوں نے کہا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز سے ملاقات کر کے ان کو صورتحال سے آگاہ کریں ، کمیٹی سیاسی جماعتوں سے بھی بات کرے گی، کووڈ صورتحال پر کوئی سیاست نہیں ہونی چاہیئے۔

قبل ازیں وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت صوبائی کرونا ٹاسک فورس کا اجلاس ہوا، جس میں صوبائی وزرا، چیف سیکریٹری، آئی جی پولیس، ڈاکٹر باری، ڈاکٹر فیصل، ڈاکٹرسارہ خان، ڈاکٹر سعید قریشی، رینجرز اور دیگر اداروں کے نمائندے شریک ہوئے جہاں سیکریٹری صحت کاظم جتوئی نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ صوبے بھر میں کرونا وائرس کیسز کی شرح 12.7 فیصد ہوگئی ہے، کراچی میں 26.32 فیصد کووڈ کیسز ہیں۔اس موقع پر وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ 24 جولائی کو کراچی میں کیسز کی شرح 20.72 فیصد تھی، 25 جولائی کو 28.24 فیصد ہوگئی جب کہ 26 جولائی کو یہ شرح 26.32 فیصد تک جا پہنچی ، جو کہ سخت پریشانی کی بات ہے کیوں کہ کرونا کیسز مسلسل بڑھ رہے ہیں جس کی وجہ سے حیدر آباد میں بھی مثبت کیسز کی شرح 10 فیصد ہوگئی ہے، کراچی شرقی میں شرح 33 فیصد ہے ، سینٹرل میں 20 فیصد اور کورنگی میں 21 فیصد ہوچکی ہے ، اس کے علاوہ غربی میں 19 فیصد اور ملیر میں مثبت کورونا کیسز کی شرح 17 فیصد ہوچکی ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.