رسول اکرمﷺ نے فرمایا کہ چار چیزیں بدنصیبی کی پہچان ہیں

رسول اللہﷺ نے فرمایا: چار چیزیں بد نصیبی کی پہچان ہیں ۔ پہلا: آنکھوں کا خشک ہونا: اللہ کے خوف سے کسی وقت بھی آپ کے آنسو نہ ٹپکے ہوں۔ دوسرا: دل کا سخت ہوجانا:

آخرت کے لیے یا کسی دوسرے کےلیے کسی وقت بھی کبھی نرم نہ پڑے۔ یعنی کسی غریب ، یتیم ، مسکین کو دیکھ یا کسی بھی معاملے پر جہاں پر رحم دلی کا مظاہرہ کرنا ہو۔ وہاں پر آپ کا دل نرم نہیں ہوتا تو یہ اس بات کی علامت ہے

کہ آپ کا دل سخت ہوچکا ہے۔ تیسرا: امیدوں کا لمبا ہونا: لمبی لمبی امیدیں رکھنا کہ میں ابھی یہ کروں گا۔ دس سال بعد یہ کروں گا۔ بیس سال بعد یہ کروں گا۔ اور پل بھر کی خبر نہیں کہ م و ت کب آجائے اور امیدیں

آپ کی دس پندرہ سال ہوں۔ تو یہ بھی علامت ہے بدنصیبی کی۔چوتھا: دنیا کی لالچ: آج کے دور میں ہم یہی توکررہے ہیں۔ کہ دنیا کی بھاگ دوڑ میں لگے ہوئے ہیں۔ آخرت کو بالکل بھول چکے ہیں۔ دنیا کی بھاگ دوڑ میں لگ کر چاہے

وہ حلال طریقے سے آرہا ہو۔ ح رام طریقے سے آرہاہو۔ بس پیسا کمانے میں لگے ہوئے ہیں۔ اپنا دین ، اپنا قبلہ سب ہم نے پیسے او ر دولت کو بنا کر رکھا ہوا ہے ۔ تو اللہ تعالیٰ سے دعا ہے یہ جو ہم نے بد نصیبی کی چار علاما ت

جوپڑھیں ہیں۔ ہمیں اللہ تعالیٰ اس سے محفوظ فرمائے۔ آپ اس کو دوسروں کو بھی بتائیں کیا معلو م آپ کے بتانے سے کسی کے دل میں اتر جائے اور کسی کی زندگی سنور جائے ۔ کیونکہ یہ ایک صدقہ جاریہ ہے اور اس کا ثواب آپ کو ملے گا۔ آمین۔

حضرت محمدﷺ نے فرمایا: کہ ایک شخص کا انتقال ہوا، قبر میں اس سے سوال ہوا، تمہارے پاس کوئی نیکی ہے؟ اس نے کہا: کہ میں لوگوں سے خرید فروخت کرتا تھا، اور جب کسی پر میرا قرض ہوتا، تو میں مالداروں کو مہلت دیا کرتا تھا، اور تنگ دستوں کے قرض کو معاف کردیا کرتا تھا، اس پر اس کی بخشش ہوگئی۔ حضرت محمدﷺ نے فرمایا: چارچیزیں آپ کو ختم کردیتی ہیں؟ پریشانی ، غم ، بھوک اور دیر سے سونا۔ حضرت حسن بصری ؒ نے بلند آواز میں فرمایا: لوگو! اللہ تعالیٰ کا دروازہ کھٹکھٹاتے رہو، دروازہ ضرور کھلتا ہے۔ ایک بڑھیا نے سنا تو بولی: اے حسن، کیا اللہ تعالیٰ کا دروازہ بند بھی ہوتا ہے؟ حسن بصری ؒ یہ با ت سن کر غش کھا کر گر پڑے۔ اور فرمایا: اے اللہ پاک : یہ بڑھیا تجھے مجھ سے زیادہ جانتی ہے۔ سب سے برا کھیل وہ ہے جو کسی کے خلوص سے کھیلا جائے۔ اللہ جب بہترین سے نوازتا ہے تو پہلے بدترین سے گزارتا ہے۔

اگر آدمی کی نیت درست ہو اور وہ کوشش شروع کردے تو اللہ تعالیٰ کی مدد آجایا کرتی ہے۔ میں نے بندگی کا طریقہ پرندوں سے سیکھا! جن کے گھونسلے طوفانی راتوں میں تباہ ہوجاتے ہیں، مگر صبح ہوتے ہی وہ شکایتوں کے بجائے اللہ سبحان و تعالیٰ کی حمد و ثناء میں مصروف ہوجا تے ہیں۔ اناؤں، نفرتوں، خود غرضیوں کے ٹھہرے پانی میں محبت گھولنے والے پڑے درویش ہوتے ہیں۔ ہر آدمی اپنا درخت الگ الگ اگانا چاہتا ہے یہی وجہ ہے کہ انسانیت کا باغ تیار نہیں ہوتا۔ ہر میاں بیوی پر ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ جب کچھ لوگ ان کے رشتے کو کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو اس مشکل وقت میں نکل گیا وہ سکھی اور جو لوگوں کی باتوں میں آگیا اس کا مقدر نہ ختم ہونے والا دکھ ہے۔ حضرت محمدﷺ نے فرمایا: چار چیزیں بدنصیبی کی پہچان ہیں: آنکھوں کا خشک ہونا کہ اللہ کے خوف سے کسی وقت بھی آنسو نہ ٹپکے ۔

دل کا سخت ہونا کہ آخرت کے لیے یا کسی دوسرے کے لیے کسی وقت بھی نرم نہ پڑے ۔ امیدوں کو لمبا ہونا ۔ دنیا کی لالچ۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کسی کو دکھ دینے والا کبھی خوش نہیں رہ سکتا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کسی کی بے بسی پر مت ہنسو، کل یہ وقت تم پر بھی آسکتا ہے۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کسی کی آنکھ تمہاری وجہ سے غم نہ ہو کیونکہ تمہیں اس کے ہر آنسو کا قرض چکا نا ہوگا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ شیر خدا نے فرمایا: مظلو م اور نماز ی کی آہ سے ڈرو، کیو نکہ آہ کسی کی بھی ہو عرش کو چیر کر اللہ کے پاس جاتی ہے۔ ہوائیں موسموں کا رخ بدل سکتی ہیں اور دعائیں مصیبتوں کا۔ کچھ باتوں کا جواب صرف خاموشی ہوتی ہے اور خاموشی بہت خوبصورت جواب ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.