کس جانور کی شکل میں

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو پیدا فرمانے کا ارادہ کیا

:تو حضرت جبرائیل ؑ کو زمین سے کچھ مٹی لانے کو کہاگیا ۔حب حضرت جبرائیل ؑ مٹی لینے گئے تو زمین نے جبرائیل ؑ سے کہا : میں تجھے اس ذات کی قسم دیتی ہوں جس نے تجھے میرے پاس بھیجاتم یہ مٹی نہ لے کر جاؤاس مٹی سے جو

انسان بنے گا وہ فسا د پھیلائے گااورخ ون بہائے گا۔ اوراس کو آگ میں جلنا پڑے گا۔ یہ سن کر جبرائیل ؑ اللہ کی بارگاہ میں پہنچے۔ تو اللہ نے دریافت کیا کہ مٹی کیوں نہیں لائےتو حضرت جبرائیل ؑ نے جواب دیا کہ اے اللہ جب اس

نے آپ کی عظمت کا واسطہ ڈالا تو میں نے اسے چھوڑ دیا۔ تو اللہ تعا لیٰ نے حضرت اسرافیل ؑ کو بھیجا اور اس کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوا۔پھر میکائیل ؑ کو بھیجا ان کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوا۔ حتیٰ کہ ملک الموت عزرائیل ؑ کو بھیجا گیا

تو زمین نے جب عزارئیل ؑ کو یہی جوا ب دیا تو عزرائیل ؑ نے فر ما یا : اے زمین جس ذات نے مجھے تمہارے پاس بھیجا ہے۔ وہ تجھ سے زیادہ اطاعت و فرمانبردار ہے۔ تو میں اس کے حکم کے سامنے تیر ی بات کیسے مان سکتا ہوں۔چنانچہ

آ پؑ نے زمین کی مختلف جگہوں سے کچھ مٹی لی اور اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوگیا کیونکہ تم اس مٹی کو لے کر آئے ہو اب تم ہی ان کی روح کو قبض کیا کرو گے۔تو آپؑ نے کہا لوگ مجھ سے نفرت کرنے لگیں گے۔تو اللہ نے وعدہ فرمایا: کہ کوئی تمہار ا نام نہیں لے گا۔ اور نہ کوئی برا بھلا کہے گا۔ ایک حدیث کے مطابق حضرت ابراہیم ؑ اپنے گھر میں تشریف فرما تھے کہ اچانک گھر میں ایک خوبصور ت نوجوان شخص داخل ہوا۔ آپ ؑ نے پوچھا : اے اللہ کے بندے! تجھے اس گھرمیں کس نے داخل ہونے دیا ہے۔ اس نے کہا کہ گھر والے نے۔ آپ ؑ نے فرمایا بے شک صاحب ِ خانہ کو اس کا اختیا ر ہے۔ یہ تو بتاؤ تم کون ہو۔ اس نے کہا کہ میں ملک الموت ہوں۔

آپ ؑ نے فرما یا : مجھے تمہاری چند نشانیاں بتائی گئیں ہیں۔ مگر تم میں ان میں سے کوئی نشانی بھی نظر نہیں آرہی ہے۔ تو ملک الموت نے پیٹھ پھیر لی اور آپ ؑ نے دیکھا۔ کہ ان کے جسم پر آنکھیں ہی آنکھیں نظر آنے لگیں۔ اور جسم کا ہر بال نوکدار تیر کی طرح کھڑا تھا۔ حضرت ابراہیم ؑ نے فوراًتعوذ پڑھااور کہا کہ آپ اپنی پہلی شکل پر تشریف لائیں۔جو اس کی ملاقات کو بہتر جانتا ہے۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ جب اس نے پیٹھ پھیری تو وہ شکل نظر آئی جس سے وہ برے لوگوں کی روح کو قبض کرتا ہے۔ ابن مسعود اور ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت میں یوں ہے۔ کہ حضرت ابراہیم ؑ نے معلوم کیا : ا ے ملک الموت!آپ مجھے وہ شکل دکھائیں جو کفار میں نظر آتے ہیں۔ تو اس نے کہا کہ یہ آپ کی طاقت سے باہر ہے۔ ملک الموت نے وہ صورت دکھانا شروع کی اور فرمایا :آپ اپنا منہ موڑ لیجیے۔

اب جب دیکھاتو سیاہ شخص کے سرمیں آگ کے شعلے نکل رہے ہیں۔ اس کے جسم سے بال کی بجائے تیر اور منہ سے آگ نکل رہی ہے۔ یہ حال دیکھ کر آپ پر غشی طاری ہوگئی ۔ اس کے بعد آپ نے دیکھا کہ ملک الموت اپنی شکل میں موجود تھے۔ اب ذرا یہ بتائیں کہ مومن کی روح کیسے قبض کرتے ہیں۔ تو کہا ذرا منہ پھیر لیجیے۔ آپ ؑ نے منہ پھیر کر دیکھا تو آپ کے سامنے ایک حسین نوجوان کھڑا تھا۔جس نے کپڑے سفید اور جسم مہک رہا تھا۔ آپ ؑ نے منظر دیکھ کر فرمایا اگر مومن کو آپ کے دیدار کی دولت ہی نصیب ہوجائے تو اسے کے لیے یہی کافی ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.