ترکی نے امریکہ سمیت سبھی دشمن ممالک کی نیندیں اڑا دیں

ترکی نے امریکہ سمیت سبھی دشمن ممالک کی نیندیں اڑا دیں

طیب اردوگان نے اپنے ملک کے دفاع میں کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہ کرنے کا فیصلہ کر رکھا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے دفاعی نظام کو پہلے سے زیادہ مضبوط بناتے ہوئے اس کی وسعت بڑھاتے چلے جا رہے ہیں

ا ور اس سلسلے میں وہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے ہیں۔ترکی کا دفاعی صنعت میں نیا کارنامہ، بغیر کپتان کے مسلح کشتی تیار کر لی۔حیرت انگیز صلاحیتوں کی حامل اس مسلح بوٹ کو ادلاق کا نام دیا گیا ہے

جو اس وقت سمندر میں اپنے سفر کا آغاز کر چکی ہے۔اس بوٹ کو موبائل کے ذریعے ہیڈکوارٹر کمانڈ سینٹر یا فلوٹنگ پلیٹ فارم سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کی رینج 400 کلومیٹر ہے اور 65 کلومیٹر فی گھنٹہ کی

رفتار سے یہ چلتی ہے۔مسلح بوٹ دن اور رات وژن کی اہلیت رکھنے کے ساتھ ساتھ کیموفلاج کرنے بھی صلاحیت رکھتی ہے۔جس کا مشن نگرانی، انٹیلی جنس، فوج کا تحفظ اور اسٹریجیٹک سہولتوں کی حفاظت کرنا ہے۔

اس بوٹ کی تیاری میں کئی سال لگے اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس اس مسلح بوٹ کو سمندر میں اتار دیا گیا ہے جو اپنے مشن میں مصروف ہے۔ترکی نے دفاعی صنعت میں حیرت انگیز ترقی کرتے ہوئے دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا ہے۔ خود ترک صدر طیب اردوان نے ڈرونز اور میزائل سمیت طیاروں کی تیاری میں گہری دلچسپی لی ہے۔یاد رہے کہ روس سے ایس 400ایٹ، م، ی سسٹم کی خریداریکے حوالے سے امریکہ نے ترکی پر معاشی پابندیاں عائد کرنے کا عندیہ دے رکھا ہے جبکہ ترکی نے تمام تر پابندیوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے دفاع کیخاطر روس کے ساتھ کی گئی ڈیل کی پاسداری کرتے ہوئے ایس 400سسٹم کو لینے کا عہد کر لیا ہے۔دیکھتے ہیں کہ امریکہ کے ساتھ ترکی کی گفت و شنید کا کیانتیجہ نکلتا ہیا رو روس کے ساتھ مل کر ترکی اپنی دفاعی صلاحیت کو کس حد تک مضبوط کر پاتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل چین کی طرف سے بائیو فوجی تیار کرنے کا اعادہ کیا گیا تھا کہ اس پراجیکٹ کے تحت فوجیوں کا دماغ اس قدر تیز ہو جائے گا کہ وہ روبوٹ

کی طرح کام کریں گے جبکہ امریکہ نے براہ راست روبوٹ فوجی تیار کرنے کا عندیہ دیا تھا حالانکہ ان سب سے آگے نکلتے ہوئے ترکی نے دفاعی صلاحیت میں بغیر کپتان کے کشتی سمندر میں چلا کر بازی م، ار لی ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.