”حرم پاک میں امام مہدی کی آمد ؟ ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں مسلمانوں کیلئے دنیا کی سب سے مقدس جگہ پر انتہائی حیران کن واقعہ پیش آگیا“

حرم پاک میں امام مہدی کی آمد ؟ ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں مسلمانوں کیلئے دنیا کی سب سے مقدس جگہ

پر انتہائی حیران کن واقعہ پیش آگیا ۔ناظرین اس پر فتن دور میں ایک کے بعد ایک یہ دنیا فتنوں کی لپیٹ میں نظر آتی ہے ۔ کبھی کورونا وائرس سے بڑی تعداد میں ہلاکتیں تو کبھی کورونا کی ہی وجہ سے اس قدر معاشی بد حالی

کہ امریکہ جیسے سپر پاور ملک کے مکین بھی کھانا لینے کیلئے قطاروں میں لگے نظر آئے ۔ قیامت سے قبل جب دنیا بھر میں راسخ القیدہ مسلمانوں پر زمین تنگ کر دی جائے گی، یوں تو مسلمان مسلسل باطل سے قتال کرتے

اور اپنی جانیں دیتے رہیں گے لیکن کوئی کامیابی حاصل نہ ہوگی، حق پرست مسلمان پریشان ہوں گے، ظالموں کا غلبہ ہوگا، کفر کی حکمرانی ہوگی، مسلمان تیزی سے ارتداد کا شکار ہو رہے ہوں گے، ہر طرف سے حق پرستوں پر کفر کی یلگار ہوگی، ان پر آشوب حالات کو دیکھ کر اہلِ حق علماء بے چین ہو جائیں گے

آخر کار دنیا کے الگ الگ خِطّوں (ممکنہ طور پر افغانستان، پاکستان، ترکی، شام اور الجزائر) سے ۷ علماء امام مہدی کی تلاش میں نکلیں گے، یہ ایک حیرت انگیز قسم کی تلاش ہوگی، ایک ایسی شخصیت کی تلاش جس کے بارے میں علم بھی نہیں ہوگا کہ ابھی وہ پیدا ہوئی بھی ہے یا نہیں، لیکن اُمت کی بے سرو سامنی کو دیکھ کر یہ اللہ کے ۷ بندے در در پھریں گے، حتی کہ خانہء کعبہ میں یہ علماء امام مہدی کو (اُن علامات کے زریعہ جن کا تزکرہ کتبِ احادیث میں ملتا ہے) پہچان جائنگے، اور اُن سے قریب آکر پوچھیں گے، آپ محمد بن عبد اللہ ہیں؟

(یہ امام مہدی کا اصل نام ہے، حسنی سادات میں سے ہونگے، مہدی ان کا لقب ہوگا اور ظہور کے وقت عمر ۴۰ سال کی ہوگی).. حضرت مہدی خوبصورتی سے انہیں ٹال دئنگے (یاد رہے جو شخص بھی مہدیت کا دعوہ کرے گا وہ جھوٹھا ہوگا، انہیں تلاش کیا جائے گا، یہ اُمت کے مسائل حل کرنے کے لئے جان کی بازی لگائیں گے نہ کہ نذر و نیاز اور تحفہ تحائف جمع کر نے میں لگیں گے، یہ ایک مجاہد ہوں گے، نہ کہ موجودہ بدعتی صوفی) اور چھپ کر مدینہ چلے جائنگے

یہ علماء بھی مدینہ پہنچیں گے، پھر حضرت مہدی مکہ آجائیں گے، علماء بے تاب ہوں گے، کہ ہم نے دنیا بھر میں باطل سے قتال کیا، اصلاحی کوششیں کیں جان، مال، عزت و آبرو کی بے حساب قربانیاں دیں، منزل پھر بھی ہاتھ نہ آئی، اور اُمت کو جس قائد کی ضرورت ہے وہ قیادت کے لئے تیار ہی نہیں، علما پھر امام مہدی کی تلاش میں مکہ آپہنچیں گے، امام مہدی غلافِ کعبہ پکڑے اُمتِّ مسلمہ کے احوال پر آہ و زاری میں لگے ہوں گے،

یہ علماء امام مہدی کو اللہ کا وسطہ دیں گے، اور تڑپ کر کہیں گے اگر آپ نے قیادت نہیں سنبھالی تو اُمت پر جو احوال آئنگے اُس کے ذمہ دار آپ ہونگے، اس پر امام مہدی مجبور ہوکر مقامِ ابراہیم اور حجر اسود کے درمیان بیٹھ کر کہیں گے، پھر آؤ! آخری فتح تک ساتھ جینے مرنے کا عہد کرتے ہیں، اُسکے بعد یہ علماء بیعت ہو جائیں گے، اور ان علماء کا لشکر (جن میں مجاہدین، انجینئرس، ڈاکٹر، پروفیسر، سائنس داں، سرمایہ دار) اور ان کے شاگرد بھی امام مہدی کے ہاتھ پر بیعت ہو جائنگے

اس طرح مسلمانوں کی منتشر صلاحیتیں ایک جگہ جمع ہو جائنگی، دنیا بھر سے راسخ العقیدہ مسلمان امام مہدی کی قیادت میں آکر بیعت کریں گے، جبکہ سلیم فطرت عیسائی حضرات بھی اسلام قبول کر نے لگیں گے، اس پر یورپ اور دنیا بھر کی متحدہ عیسائی طاقت ترکی میں داخل ہو جائے گی، اور اعلان ہو گا کہ ہم تم جیسے کمزورں سے لڑنا نہیں چاہتے ہم صرف اُن لوگوں کو واپس مانگ رہے ہیں جو اپنا مذہب بدل کر مسلمان ہوئے ہیں، اس پر مسلمان جواب دئنگے، ہر گز نہیں، وہ ہمارے بھائی ہیں

ہم ایک مسلمان کو کسی کافر کے حوالے نہیں کیا جاسکتا، اس بات پر جنگ شروع ہوگی یہ ایک بھیانک عالمی جنگ ہوگی جس میں مسلمان لشکر کی تعداد ۱۲۰۰۰ کی ہوگی لیکن یہ سچّے مسلمان ہونگے، ان کی جنگ عیسائیوں اور مشرکوں سے ہوگی اور صرف عیسائیوں کا لشکر چودہ لاکھ ساٹھ ہزار جنگجوؤں پر مشتمل ہوگا. (یہ تعداد دراصل اوسط بتانے کے لئے بھی ہو سکتی ہے

یعنی ایک مسلمان مجاہد کے مقابلہ میں ۱۲۲ کافر ہونگے) اس جنگ میں حدیث کے مطابق ۲ تہائی آبادی ہلاک ہو جائے گی، اور ۷ برس تک مسلسل دو بڑی طاقتوں (عیسائیوں اور مشرکین) کے خلاف جہاد ہوگا، اس جنگ میں عیسائیت کو شکستِ فاش دی جائے گی، مشرکینِ ہند کو بیڑیوں میں جکڑ کر امام مہدی کے سامنے پیش کیا جائے گا،.. لیکن اب بھی ایک طاقت باقی رہ جائے گی، اور وہ پہود کی ہوگی،

یہ بہت طاقت ور ہونگے اور ان کا مسیّا دجّال کا خروج ہو چکا ہوگا، جو دنیا بھر میں فتنہء عظیم برپا کرے گا، سائنس کی آخری بلندی پر ہوگا، یہود سائنس کے زریعہ موسمیات پر مکمل قابو حاصل کر چکے ہونگے، جس ملک کو چاہیں گے آباد کریں گے جسے چاہیں گے برباد کرینگے، (یہود سائنس کے زریعہ کائنات کے فطری عمل میں مسلسل دخل اندازی کر رہے ہیں، ۱۹۸۷ میں یہودی سائنس دان نکولاٹیسلا کی ایجاد Deathary کے زریعہ سے زمین کی گردش کو متأثر کرنا شروع کیا گیا

اور مسلسل کیا جا رہا ہے، اس کے زریعے (تحقیقات کے مطابق) زمین کی مقناطیسی صلاحیت ختم ہو جائے گی (اور تیزی سے ختم ہو رہی ہے، زلزلے بڑھ جایں گے) جسکے سبب زمین کی گردش حد درجہ سست ہو جائے گئی، اور اس طرح دجّال کے ظہور کی سب سے بڑی نشانی پوری ہوگی، یعنی پہلا دن ایک سال کے، دوسرا دن ایک مہینہ کے اور تیسرا دن ایک ہفتہ کے برابر ہوگا،

اُسکے بعد نظام اپنے سابقہ نظام کے تحت ہوگا،.. ایسی طرح چند سالوں قبل آکسفورڈ کی پروفیسر سوس گرین فلیڈ نے کہا تھا کہ انسانی دماغ کی پوری میموری کمپیوٹر میں فیٹ کرنا ممکن ہو چکا ہے( اگلا قدم اس کے بر عکس ہوگا، یعنی کمپیوٹر کی میموری انسانی دماغ میں اپلوڈ کی جائے گی جس کے زریعہ دجّال کا راستہ ہموار ہو جائے گا اور دجّال انسان کے ذہنوں پر حکومت کرے گا، اور پوری دنیا غلام بنتی چلی جائے گی). جب دجال کا فتنہ عروج پر ہوگا تب حضرت عیسیٰ نازل ہونگے، اور خراسان کا لشکر جو امام مہدی کے ساتھ ہوگا وہ عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ مل جائے گا اور یہودیوں سے فیصلہ کن لڑائی ہوگی، دجّال کو عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں قتل کیا جائے گا، قیامت سے پہلے کے احوال کا موضوع بہت پر اسرار ہے

لیکن احادیث میں ایسی حیرت انگیز پیشن گویاں کی گئیں ہیں جو آج کے زمانہ کو دیکھنے کہ بعد لگتا ہے کہ یہ باتیں ۱۴۰۰ سالوں قبل کی نہیں بلکہ ابھی ابھی کی ہیں، اللہ جزاے خیر دے ہمارے محدیثن کو جنہوں نے احادیث کو جوں کا توں ہم تک پہنچایا اور آنے والے فتنوں سے آگاہ کیا. اب ذمہ داری ہماری ہے کہ ہم کس طرح خود کو محفوظ کرتے ہی

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.