جسم پر درجنوں نشانات، مینار پاکستان پر ہراسگی کا شکار ہونے والی لڑکی کی میڈیکل رپورٹ سامنے آ گئی

جسم پر درجنوں نشانات، مینار پاکستان پر ہراسگی کا شکار ہونے والی لڑکی کی میڈیکل رپورٹ سامنے آ گئی

لاہور : مینار پاکستان پر ہراسگی کا نشانہ بننے والی ٹک ٹاکر عائشہ اکرام کا میڈیکل مکمل کر لیا گیا ہے۔ متاثرہ لڑکی کا میڈیکل نوازشریف اسپتال یکی گیٹ میں کیا گیا۔پولیس کے مطابق متاثرہ لڑکی کا میڈیکل مکمل کر لیا گیا ہے۔میڈیکل رپورٹ کے

مطابق متاثرہ لڑکی کے جسم پر تشدد کے درجنوں نشانات پائے گئے۔لڑکی کے جسم پر نیل اور خراشوں کے 13نشانات پائے گئے۔ لڑکی کی گردن اور دائیں ہاتھ پر سوجن ہے۔لڑکی کی گردن پر نوچے جانے کے کئی نشانات ہیں۔دائیں بازو کی کہنی پر

بھی زخم کے نشانات پائے گئے۔متاثرہ لڑکی کی کمر اور دونوں پاؤں پر بھی نشان ہیں۔لڑکی کے جسم پر سوزش اور زخموں کے کئی نشانات ہیں۔واضح رہے کہ یوم پاکستان پر ٹک ٹاکر کے ساتھ لڑکوں کے ہجوم نے بدتمیزی کی تھی اور ہراساں کیا تھا

جس کے بعد متاثرہ خاتون نے پولیس میں 400لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کروایا۔ افغانستان کی صورتحال ، بھارتی فوجی افسر نے آئی ایس آئی کو مبارکباد دے دی گریٹر اقبال پارک مقدمہ میں پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائی

کرتے ہوئے شہر کے مختلف علاقوں میں چھاپے مار کر ڈیڑھ درجن سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پولیس کی مختلف ٹیموں نے کارروائی کرتے ہوئے بادامی باغ، لاری اڈا اور شفیق آباد کے علاقوں میں چھاپے مار

کر 20 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق پولیس نے جن افراد کو حراست میں لیا ہے ان کی عمریں 18 سے 30 سال کے درمیان ہیں۔ حراست میں لیے جانے والے افراد کے موبائل فون نمبرز کی 14 اگست کو لوکیشن ٹریس کی جائے گی۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ حراست میں لیے جانے والے افراد کو ویڈیوز میں نظر آنے والے افراد سے بھی میچ کیا جائے گا۔ دوسری جانب خاتون ٹک ٹاکر پر تشدد کرنے والے ملزمان کی شناخت کیلئے نادرا حکام کے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ملزمان کے خلاف درج مقدمہ دفعہ 354-Aکے تحت سزائے موت کی سزا دی جا سکتی ہے۔ پنجاب پولیس کے سوشل میڈیا پیج پر جاری کیے گئے پیغام کے مطابق آئی جی پنجا ب کی چیئرمین نادرا سے ٹیلی فون پر بات ہوئی ہے۔ خاتون ٹک ٹاکرپر تشدد کے ملزمان کی جلد از جلد شناخت کے لیے تصاویر بھیجوا دی گئی ہیں۔ نادرا کا عملہ چھٹی کے باوجودملزمان کی شناخت کے عمل میں مصروف ہے۔ ملزمان کے خلاف دفعہ 354-Aت پ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے، جس کے تحت ملزمان کی

سزا عمر قید یا سزائے موت ہے۔پنجاب پولیس کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بُک پر جاری پیغام میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ خاتون کو انصاف کی فوری فراہمی اور ملزمان کو قرار واقعی سزا دلوانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔ ’میں مدد کے لیے چیخ و پکار کرتی رہی لیکن ۔‘ 400 سے زائد افراد نے ٹک ٹاکرلڑکی کے کپڑے پھاڑ کر برہنہ کردیا

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.