سعودیہ میں قیامت کی اہم نشانی ظائر

سعودیہ میں قیامت کی اہم نشانی ظائر سعودیہ میں قیامت کی اہم نشانی ظائر

سعودی عرب میں ریت کے طوفان اور گرد آلود آندھی معمول کی بات ہے۔ مگر گزشتہ روز الجاف اور اس کے مضافات کے علاقے میں سُرخ رنگ کی آندھی نے سب کو خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا۔ بعض لوگوں نے

اسے قیامت قریب ہونے کی ایک نشانی قرار دے دیا۔سوشل میڈیا پر بھی اس سُرخ آندھی پر کافی کمنٹس اور پوسٹس نظر آئیں۔ العربیہ نیوز کے مطابق گزشتہ جمعہ کے روز سعودی عرب کے شمالی علاقوں بالخصوص الجوف اور

اس کے مضافات میں ریتلے طوفان اور گرد آلود آندھی نے دن کو رات میں بدل دیا۔ماہرین موسمیات نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ گرد آلود موسم سے متاثرہ علاقوں میں سفر میں احتیاط برتیں۔ گرد آلود آندھی نہ صرف شمالی

علاقوں میں تیزی کے ساتھ چل رہی ہے بلکہ مملکت کے وسطی علاقے بھی اس کی لپیٹ میں آسکتے ہیں۔سعودی عرب میں ماہر موسمیات اور موسمیات کمیٹی کے رکن عبدالعزیز الحصینی نے بتایا کہ ریتلے طوفان اور گرد آلود آندھی

کا پہلا سلسلہ جمعہ کی صبح شمالی سعودی عرب بالخصوص الجوف کے علاقے میں سامنے آیا۔اس کے علاوہ جنوبی اور مشرقی تبوک، مشرقی مکہ، القصیم، الریاض، اور مشرقی گورنری اور دوسرے علاقوں میں بھی تیز ہواوں کے ساتھ گرد آلود آندھی اور ریتلے طوفان کے امکانات ہیں۔ ان علاقوں میں شہریوں کو تاکید کی جاتی ہے کہ وہ اپنے گھروں کے جنوبی سمت کے دروازے استعمال کریں۔ شمالی اور مشرقی علاقوں کی سمت میں کھلنے والے دروازے اور کھڑکیاں بند رکھی جائیں۔انہوں نے کہا کہ کل ہفتے کے روز مملکت کے شمالی، وسطی اور مشرقی علاقوں میں دن کے وقت درجہ حرارت معتدل رہنے کا امکان ہے جب کہ ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب موسم قدرے ٹھنڈا ہو۔

جنوبی الریاض اور مشرقی نجران میں گرد آلو ہواوں کے امکانات زیادہ ہیں۔ادھر سعودی عرب میں جغرافیا کے استاد اور ماہر موسمیات ڈاکٹر عبداللہ المسند نے ‘ٹویٹر’ پرایک بیان میں شہریوں سے کہا ہے کہ وہ گرد آلود علاقوں میں قیام کے دوران سفر سے گریز کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرقی اور شمالی سعودی عرب کے بعض علاقوں میں تیز رفتار گرد آلود ہوائیں چلنے کے امکانات ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *