کورونا وائرس کی خطرناک اقسام سے متعلق ایک اور انکشاف جس نے دنیابھر میں خوف پھیلا دیا

کورونا وائرس کی خطرناک اقسام سے متعلق ایک اور انکشاف جس نے دنیابھر میں خوف پھیلا دیا

کورونا کی نئی قسم ڈیلٹا ویرئینٹ نے دنیا میں تباہی مچا رکھی ہے۔اس دوران امریکی ماہرین نے حالیہ تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ کرونا کی نئی اقسام ویکسین یا قدرتی طریقے سے جسم میں بننے والے مدافعتی ردعمل کو نمایاں

طور پر کم کردیتی ہیں۔ امریکی اوریگن ہیلتھ اینڈ سائنس یونیورسٹی کی طبی تحقیق میں یہ دعویٰ کیا ہے، ماہرین نے رپورٹ میں کہا ہے کہ ویکسنیشن کرانے والے یا کووڈ کو شکست دینے والے افراد کے خ، ون کے نمونوں پر کورونا وائرس

کی 2 بہت زیادہ متحرک اقسام کی آزمائش کی گئی ہے۔سائنسدانوں کی نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کورونا کی قسم ایلفا اور بیٹا کے سامنے فائزر کی ویکسین استعمال کرنے یا ماضی میں بیماری سے متاثر ہونے والے 100 کے

قریب افراد کے خ، ون کے نمونوں میں وائرس ناکارہ بنانے والی اینٹی باڈیز کی شرح گھٹ گئی اور بیٹا قسم کے باعث اینٹی باڈیز کی سطح میں اصل وائرس کے مقابلے میں 9 گنا کمی دیکھنے میں آئی۔نتائج سے پتہ چلا ہے کہ نئی اقسام

کے خلاف وائرس سے ملنے والے تحفظ کی شرح میں کمی آتی ہے خاص طور پر 50 سال اور اس سے زائد عمر کے افراد میں اینٹی باڈیز کی سطح گھٹ جاتی ہے جو تشویشناک بات ہے لہذا ضروری ہے کہ ویکسی نیشن

کے بعد بھی وائرس سے بچاؤ کی کوششیں جاری رکھی جائیں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *