جلدی جلدی ٹینکیاں فل کرالیں، ملک میں پیٹرول کابڑا بحران؟ عوام کیلئے بری خبر

جلدی جلدی ٹینکیاں فل کرالیں، ملک میں پیٹرول کابڑا بحران؟ عوام کیلئے بری خبر

ایسے میں کہ جب وزارت توانائی اور بحری امور آپریشنل مسائل پر ایک دوسرے کے ساتھ الجھ رہی ہیں، پاکستان کا پیٹرول کا ذخیرہ تشویشناک حد تک کم ہوگیا ہے جس سے اس کی بلا رکاوٹ فراہمی میں مشکلات پیدا ہوں گی۔ڈان کے

مطابق باخبر ذرائع نے بتایا کہ پیٹرول کا مجموعی ذخیرہ 8 روز کے لئے ملک کی اوسط کھپت سے کم تھا۔اس صورتحال سے جون 2020 کی یاد تازہ ہوگئی جب فراہمی رک گئی تھی جس کے بعد وجوہات جاننے کے لئے متعدد

انکوائریز اور کمیشن تشکیل دیئے گئے۔وزیراعظم کے اس وقت کے معاون خصوصی اورپیٹرولیم ڈویژن کے دیگر اعلیٰ عہدیداران کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا تھا اور بہت سی کمپنیوں کو جرمانہ بھی کیا گیا تھا۔پیٹرولیم ڈویژن کے

ایک سینئر عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ 4 سے 5 دن کا ذخیرہ رکھنے کے لئے سندھ بالخصوص کراچی سے پیٹرول دوسرے صوبوں کو منتقل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے، کیوں کہ اس کارگو کی جگہ خام تیل کے کارگو نے لینی ہے

جسے5روز تک روک کر رکھا جاسکتاہے۔انہوں نے بتایاکہ 50ہزارٹن سے زیادہ پیٹرول سندھ سے ملک کے دیگرعلاقوں میں منتقل کیاگیاتاکہ جہاں2سے3روز کا ذخیرہ رہ گیا ہے وہاں قلت ہونے سے بچایا جاسکے۔اس طرح سندھ میں پیٹرول کے ذخیرے کی پوزیشن پیر کے روز 30 دن کے کور سے کم ہو کر 22 دن کے کور پر آگئی۔پنجاب، بلوچستان، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں پیٹرول کاذخیرہ کم ہونے سے وزارت توانائی کے پیٹرولیم ڈویژن نے وزارت بحری امورسے پیٹرول کے کارگو کی برتھنگ کوترجیح دینے کی درخواست کی تھی۔ اس عرصے کے دوران 5 جہازوں کے ذریعے آنے والے

2 لاکھ 10 ہزار ٹن پیٹرول کو 2 ٹرمینلز پر برتھ کیا جانا تھا جس میں 2 پاکستان اسٹیٹ آئل اور دیگر ٹوٹل پارکو، گو اینڈ شیل پاکستان کے تھے۔پیٹرولیم ڈویژن نے اسی مدت کے لئے فوجی آئل ٹرمینل کمپنی میں 6 ڈیزل اور فرنس آئل کارگو بھی مختص کیےتاہم وزارت بحری امورت نے کے پی ٹی پر ایک خام تیل کے کارگو کو برتھ کیا۔ وزارت کے ذرائع کا کہنا تھا کہ حکومتی فیصلے کے مطابق پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے لائے گئے کسی بھی جہاز کو دیگر تمام جہازوں پر فوقیت دی جائے گی۔پیٹرولیم ڈویژن کے عہدیداران نے بھی اس دعوے کی تائید کی لیکن ان کا کہنا تھا کہ فوقیت پی این ایس سی کے اپنے جہازوں کو دینی ہے، اس کے ہائر کیے گئے جہازوں کو نہیں۔دوسرا ان کا کہنا تھا کہ پیٹرول کارگو کو فوقیت دینا ملک کے دیگر حصوں میں کم ذخیرے کی وجہ سے خصوصی معاملہ تھا، کیوں کہ متعلقہ ریفائنریز نے صرف ایک خام جہاز کو ختم کیا تھا جو کہ چار سے پانچ دن کے لیے کافی ہوتا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *