دشمن کا وطن عزیز پاکستان پر بڑا ح، ملہ۔۔۔پاک فوج میدان میں۔۔

دشمن کا وطن عزیز پاکستان پر بڑا ح، ملہ۔۔۔پاک فوج میدان میں۔۔

مسلمان اس بات پر قوی ایمان رکھتے ہیں کہ جن، گ و جدل میں اللہ کی نصرت مومنوں کے ساتھ ہوتی ہے اور انہیں تائید غیبی حاصل ہوجاتی ہے ۔قرآن و حدیث میں غزوات و اسلامی جہاد کے دوران ایسے واقعات کی صداقت بیان کی گئی ہے

کہ اللہ کےفرشتے اہل ایمان کے ساتھ شانہ بشانہ شریک ہوئے اور یہ سلسلہ کبھی معطل نہیں ہوا ۔ اسکا ایک بڑا ثبوت بھارت کے ساتھ پاکستان کی جن، گوں کے دوران متعدد بار ملا ہے جب بھارت کی بھاری بھرکم فوج کے

مقابلے میں پاک فوج کے ایمان صفت سرفروشوں کو تائید غیبی سے مدد ملتی رہی اور انہوں نے دشمن پر غلبہ پاکر نصرت حاصل کی ۔ جن، گ ستمبر 1965 میں کئی ایسے روحانی واقعات رونما ہوئے جن کے راوی

خود بھارتی فوجی و حکام بھی ہیں جبکہ ان واقعات کو متعدد کتب و جرائد میں حوالوں کے ساتھ شائع کیا گیا ہے ۔جن، گ ستمبر پر اس وقت کے مقبول ترین اخبار روزنامہ کوہستان ،روزنامہ جن، گ اور روزنامہ امت میں

ان واقعات پر باقاعدہ تحقیقاتی مضمون بھی شائع ہوئے ۔ ممتاز مفتی نے اپنی کتاب ”لبیک“ میں لکھاہے ” جب 1965ءکی جن، گ شروع ہوئی تو مسجد نبویﷺ میں اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں نے رسول اللہ ﷺ کی زیارت فرمائی ا

ور دیکھا کہ حضور ﷺ جن، گی لباس میں اصحاب بدر کے ساتھ پاکستانی فوج کی مدد کیلئے تشریف لے جارہے ہیں اور فرما، رہے ہیں کہ پاکستان پر ح، ملہ ہوا ہے ہمیں اس کا دفاع کرنا ہے“۔ ایک رپورٹ کے مطابق 1965 کی جن، گ میں رونما ہونے والے روحانی واقعات میں پاک فوج کو غیبی مدد ملتی رہی ۔ روزنامہ کوہستان نے دس ستمبر 1965 کے روز لکھا کہ ایک شخص نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو خواب میں دیکھا کہ وہ م، ج، اہ، دین میں اس، ل، حہ تقسیم فرما رہے ہیں۔ ہفت روزہ قومی دلیر نے آٹھ ستمبر 1965 کی اشاعت میں لکھا کہ ایک دربار کے ایک مجاور نے کہا کہ جس دن رات کو پاکستان پرح، ملہ ہوا ہےبد کے اندر سے “حی علی الجہاد “کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ روزنامہ جن، گ نے چوبیس ستمبر 1965 کی اشاعت میں بیان کیا کہ 2 فوجیوں کا بیان ہے کہ انہیں بزرگوں پر اعتقاد نہیں تھا لیکن انہوں نے اپنی آنکھوں سے سیالکوٹ کے محاذ پر ایک بزرگ کو گھوڑے پر سوار ہو

کر لڑتے دیکھا۔ ان کی سیف( یعنی ت، لو، ا، ر) پر لکھا تھا۔شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ۔ اس قسم کے متعدد واقعات مشہور ہیں۔ روزنامہ جن، گ نے ہی 12 اکتوبر 1965ءمیں یہ واقعہ بیان کیا کہ پاکستان افواج نے اللہ اکبر ،یارسول اللہﷺ اور یا علیؓ کے نعر ے لگاتے ہوئے بھارتی ٹڈی دل فوج کو بری طرح شکست دی ہے۔جبکہ اس معرکہ میں نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علی شیرِ خدا کرم اللہ وجہہ الکریم (مع اولیاء کرام) اپنے م، ج، اہ، دوں کے سروں پر موجود تھے۔ جن، گ ستمبر کے روحانی واقعات پر محقق ڈاکٹر تصور حسین نے اپنے کالم میں یہ لکھا تھا کہ جن، گ کے دوران پاک فوج اور پاکستانیوں نے تو روحانی امداد کا نظارہ کیا ہی تھا لیکن بھارتی فوجیوں نے خود اپنی نظروں سے اپنے ح، ملوں کو ناکام ہوتے دیکھا تھا ،جن، گ میں ق، ی، د ہونے والے بھارتی فوجیوں کا کہنا تھا کہ جب ہم بار، و، د، ی گ، ول، ہ پاکستان کی حدود میں پھینکتے تو وہ گول، ہ کوئی سفید لباس میں ملبوس فورس ہاتھ میں پکڑ کر واپس ہماری طرف پھینک دیتی ،جب تک وہ گول، ہ اس سفید لباس والے جوانوں کے ہاتھ میں رہتا تو وہ نہ تو پھ، ٹ، ت، ااور نہ ہی کسی قسم کا نقصان کرتا، مگر جیسے ہی وہ فولادی جوان واپس ہماری طرف پھینکتے تو وہ فوراً پ، ھ، ٹ بھی جاتا اور ہمارا بہت بڑا نقصان بھی کر جاتا،

ایسی مخلوق سے ہمارا جانی، اور فوجی سازوسامان کا بھی بہت بڑا نقصان ہوا۔جس سے ہماری ہمت ٹوٹ گئی، ہمارے حوصلے پست ہوگئے، ہمارے جوانوں میں خوف ، ڈر اور دہ، ش، ت بیٹھ گئی تھی “ پاک فوج کی پوری دنیا میں مہارتوں کو تسلیم کیا جاتا ہے تو اسکی ایک بنیادی وجہ بھی یہی ہے کہ جن، گ ستمبر کے بعد عالمی مبصرین نے بھی ان کے اندرغزوہ بدر کے م، ج، اہ، دوں کے جذبہ کو دیکھا تھا اور ایسی فوج سے جیتنا آسان نہیں۔اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ پاک فوج میں مومنانہ شجاعت اور ایمان بالیقین بدرجہ اتم موجود ہے ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *