viagra 50 mg prezzo in farmacia trombosi venosa viagra comprare viagra online sicuro viagra mentale simili a viagra

”ویڈیوز کس نے بنائیں، کیوں بنائیں، کس نے لیک کیں، کیوں لیک کیں؟ محمد زبیر کی ویڈیو لیک ہونے پر مختلف صحافی اور اینکرز کیا کہتے ہیں؟“

”ویڈیوز کس نے بنائیں، کیوں بنائیں، کس نے لیک کیں، کیوں لیک کیں؟ محمد زبیر کی ویڈیو لیک ہونے پر مختلف صحافی اور اینکرز کیا کہتے ہیں؟“

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما محمد زبیر کی سوشل میڈیا پر مبینہ ویڈیوز نے گزشتہ روز سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے،

وائرل ہونے والی مبینہ ویڈیو میں لیگی رہنما ایک خاتون کے ساتھ فحش حرکات کر رہے ہیں، جہاں سوشل میڈیا صارفین اس پر اپنا اپنا تبصرہ کر رہے ہیں وہیں پر معروف

صحافیوں نے بھی اس پر تبصرے کئے ہیں، سب سے پہلے یہ خبر معروف صحافی منصور علی خان نے دی اور کہا کہ ایک سینئر سیاستدان کی غیر اخلاقی ویڈیو سامنے آئی ہیں جو پاکستانی سیاست میں ایک نئے سکینڈل کو جنم دیں گی۔ ساتھ ہی انہوں نے اپنے ایک اور ٹوئٹ میں لکھا کہ ان کی متعلقہ شخصیت سے بات ہوئی ہے انہوں نے اسے جعلی قرار دیا ہے۔ غریدہ فاروقی نے لکھا کہ بنیادی سوال، ویڈیوز کس نے بنائیں، کیوں، کس نے لیک کیں، کیوں؟ بنیادی

طریقہ، فرانزک آڈٹ کیا جائے، تحقیقات کی جائیں اگر private consensual ہو تو الگ معاملہ ہے، اگر نوکری کا جھانسہ ہراسمنٹ وغیرہ ہو تو پھر احتساب تو ہونا چاہیے، ویڈیو میں جس شخص کا الزام ہے اسے بھی قانونی چارہ جوئی کرنی چاہیے۔ غریدہ فاروقی نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما محمد زبیر سے پوچھا تو انہوں ویڈیو کو جعلی اور doctored قرار دیا ہے، ویڈیو کی تحقیقات اور فرانزک آڈٹ کا ارادہ بھی رکھتے ہیں۔ رضوان راضی نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ ن لیگ والے تین سال سے دھمکیاں دیتے رہے اور اغلوں کو اپنے بھتیجے کی ویڈیو جاری کرکے سکھانا پڑ رہا ہے کہ

ایسے جاری ہوتی ہے ویڈیو، ویسے نہیں جیسے ناصر بٹ تین سال سے دھمکیاں لگا رہا ہے۔ اقرار الحسن سید نے اپنے ٹوئٹ میں لکھاکہ بات نہایت سادہ ہے، جتنا الجھاتے جائیں گے حاصل کچھ نہیں ہوگا، اگر آپ چیئرمین نیب کی مبینہ ویڈیو بھی اتنا ہی exited ہوئے تھے یا رنجیدہ ہوئے تھے اور محمد زبیر کی ویڈیو پر بھی ضرور اُچھلئے، یا افسوس کا اظہار کیجئے ورنہ منافقت سے باز رہیے، معیار سب کے لئے ایک رکھئے۔ شفاعت علی لکھتے ہیں کہ سیاست میں

ذاتی زندگی کو گھسیٹنا، عمران خان کے معاملے میں بھی غلط تھا، اس بار بھی غلط ہے۔ شمو جونیجو لکھتی ہیں کہ آج کا شو ڈاؤن ارشد ملک کی ویڈیو رکوانے کا ٹریلر تھا، مورل، اگر آپ نے معافی کی ویڈیو ریلیز کرنی ہی تھی تو سیدھا سیدھا کر دیتے، بیان دینے کے بعد وہی ہونا تھا جو آج ہوا، کرے کوئی بھرے کوئی! فہیم اختر ملک نے کہا کہ ویسے محمد زبیر کو اب افغانستان کے حوالے کر دینا چاہیے وہ اچھی سزائیں دے رہے ہیں، اسی حوالے سے نجم ولی خان لکھتے ہیں کہ اسد عمر کے بھائی کی ویڈیو آئی ہے، مسلم لیگ نون کے کارکن کا واٹس ایپ۔ نجم ولی خان نے لکھا

کہ کیا یہ زیادہ مناسب اخلاق اور کردار نہ ہوتا کہ محمد زبیر اپنی غلطی تسلیم کر لیتے، واضح ویڈیوز پر جھوٹ بولنے کی بجائے شرمندگی کا اظہار کرتے، ایک آئی ایم سوری، میں شرمندہ ہوں یا معذرت خواہ ہوں کا ٹوئٹ ان کا قد بڑھا دیتا، ان سے بہتر کردار تو ایک لڑکی رابی پیرزادہ کا رہا۔ عدیل راجہ نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ یہ سلسلہ کیسے شروع ہوا اور ن لیگ کے لئے ختم نہیں ہو رہا۔ اینکر عمران خان کا کہنا تھا کہ ن لیگ کی سیاست میں ویڈیوز کا بھی ایک الگ ہی مقام ہے۔پبلک نیوز کی صحافی ملیحہ ہاشمی کا کہنا تھا کہ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ ن لیگ نے خود ہی اپنے سینئر رہنما کی ویڈیو لیک کی، کیونکہ مریم صاحبہ بہت عرصے سے اس طرف اشارہ کر رہی تھیں۔ آپ کے خیال میں چار پانچ سال پرانی ویڈیو آج کس نے اور کیوں لیک کروائی؟عمر انعام نے بھی مختلف ٹویٹس کئے، انکا کہنا تھا کہ ویڈیوز کی شدت نے اسد طور اور شفاعت علی کی بھی چیخیں نکلوا دی ہیں۔عمرانعام کا مزید کہنا تھا کہ اس لیے کہتے ہیں آگ سے

کبھی نہیں کھیلنا چاہیے۔ یہ دوسروں کو ڈراتے تھے ویڈیوز سے، انکی اپنی ویڈیوز آنا شروع ہو گء ہیں۔زبیر عمر کی ویڈیو پر اسدطور نے شاعرانہ انداز میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے لکھا کہ یہ شہر سحر زدہ ہے صدا کسی کی نہیں، یہاں خود اپنے لئے بھی دعا کسی کی نہیں، خزاں میں چاک گریباں تھا میں بہار میں تو، مگر یہ فصل ستم آشنا کسی کی نہیں، میں آج زد پہ اگر ہوں تو خوش گمان نہ ہو، چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *