quanto costa viagra 50mg viagra fatto in casa viagra alternativen battute sul viagra derivato viagra viagra rosa recensioni cerotti al viagra viagra mentale

رسول پاک صلی اللہ عیلہ وآلہ وسلم نے کس بدبخت کو بددعا دی، ایمان افروز واقعہ ضرور پڑھیں

رسول پاک صلی اللہ عیلہ وآلہ وسلم نے کس بدبخت کو بددعا دی، ایمان افروز واقعہ ضرور پڑھیں

بد دعا چند الفاظ سے بنا ایک چھوٹا سا لفظ ہے ، جو زبان سے بڑی آسانی کے ساتھ ادا ہوجاتا ہے ، لیکن اس کے اثرات انتہائی دور رس ہوتے ہیں ، اس کے اثر سے آبادیاں ویرانوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں ، دولت وثروت کے جھولوںمیں جھولتے ہوئے خاندان فقیری و محتاجی کی چکی میں پس کر سرکوں اور بازاروں میں بھیک مانگتے ہوئے نظر آتے ہیں

تندرست اور توانا خوب صورت جسم بیماریوں کا شکار ہوکر ہڈیوں کا پنجر بن جاتےہیں ،اور حکومت و اقتدار کی سرمستیوں سے جھومتے ہوئے سر ذلت ورسوائیوں کے عمیق غاروں میں گر کر اہل دنیا کے لئے عبرت وموعظت کا نشان بن جاتے ہیں ۔ اسی لئے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ عنہ کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا مظلوم کی بد دعا سے بچو کیونکہ اس کے اور اﷲ تعالی کے درمےان کوئی پردہ نہیں ہے ۔

( متفق علیہ )مظلوم کے دل کا ہر نالہ تاثیر میں ڈوبا ہوتا ہےظالم کو کوئی جاکر دے خبر ، انجام ستم کیا ہوتا ہےجب ظلم گذرتا ہے حد سے، قدرت کو جلال آجاتا ہےفرعون کا سر جب اٹھتا ہے ،موسٰی کوئی پیدا ہوتا ہےروئے زمین کی پہلی بد دعاسب سے پہلی وہ بد دعا جس کے ہمہ گیر اثرات روئے زمین پر ظاہر ہوئے ، اﷲ تعالیٰ کے سب سے پہلے رسول سیدنا نوح کی بد دعا تھی

آپ ابو البشر ثانی ہیں ، اس عظیم ہستی نے ساڑھے نو سو سال کی طویل عمر پائی ، اﷲ تعالیٰ نے آپ کو سرزمین عراق کے دو مشہور ومعروف دریاو ں ، دجلہ اور فرات کے درمیانی علاقے میں ( جسے جزیرہ کہا جاتا ہے ) آباد قوم کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا تھا ، آپ ساری زندگی اﷲ تعالیٰ کی توحید اور اس کی خالص عبادت کی دعوت دیتے رہے۔

اس بھر پور زندگی میں راہ حق میں نہ کبھی تھکاوٹ محسوس کی اور نہ اکتاہٹ ، دن اور رات چھپ چھپ کر ، اور علی الاعلان ہر طرح دعوت حق دیتے رہے ، جیسا کہ ارشاد قرآنی ہے نوح نے کہا میرے پروردگار !بولا اے رب میں بلاتا رہا اپنی قوم کو رات اور دنپھرمیرے بلانے سے اور زیادہ بھاگنے لگےاور میں نے جب کبھی اُنکو بلایا تاکہ تو اُنکو بخشے ڈالنے لگے

انگلیاں اپنے کانوں میں اور لپیٹنے لگے اپنے اوپر کپڑے اور ضد کی اور غرور کیا بڑا غرور پھر میں نے اُنکو کھول کر کہا اور چھپ کر کہا چپکے سے(نوح ۵۔۹)پھر میں نے اُنکو بلایا بر ملا لیکن قوم نے آپ کا مذاق اڑایا اور نہایت ہی بے باکی سے اﷲ کے عذاب کا مطالبہ کیا ” ان کی قوم نے کہا اے نوح ! تم ہم سے ہمیشہ ہی جھگڑتے رہے ہو ، اور تم نے جھگڑنے کی حد کردی ہے

اگر تم سچے ہو تو تم جس عذاب کا تم ہم سے وعدہ کرتے رہے ہو اب اسے لے ہی آو ،،۔( ھود ۲۳)ساڑھے نو سو سال کی کاوشوں اور شب وروز دعوتی تگ وتاز کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک نہایت ہی قلیل لوگ ، جن کی تعداد تفاسیر میں چالیس سے لے کر اسّی تک بیان ہوئی ہے، ایمان لے آئی۔اور اب ان سے زیادہ لوگوں کے ایمان لانے کی توقع بھی ختم ہوگئی

یہاں تک کہ خود اﷲ تعالیٰ نے فرمادیا ” اب آپ کی قوم کا کوئی فرد ایمان نہیں لائے گا ، سوائے ان کے جو ایمان لاچکے ہیں ، آپ ان کے کرتوت پر افسوس نہ کیجئے ،،۔ ( ھود :۶۳)جب قوم کی شرارت حد سے زیادہ بڑھ گئی ، اور ان کی طغیانیت اور سرکشی حدود پار کرگئی تو پھر آپ نے اﷲ تعالیٰ کے حکم سے اپنے قوم کے کافروں پر روئے زمین کی سب سے پہلی بد دعا کی اور اپنی بد دعا میں فرمایا ۔

” تو سر زمن پر کسی کافر کا گھر نہ رہنے دے ، اگر تو نے انہیں چھوڑ دیا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کردیں گے ، اور ان کی نسل سے جو بھی پیدا ہوگا ، گناہ گار اور سخت کافر ہی ہوگا ،،۔ ( نوح ۷۲)حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ میں نماز پڑھ رہے تھے ، ابوجہل اور اس کے ساتھی وہاں موجود تھے

اتنے میں ابوجہل کے دماغ میں ایک شیطانی تدبیر آئی اور اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا “کون ہے جو بنی فلاں کے محلے سے ذبح شدہ اونٹوں کی اوجھڑی لائے اور جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں جائیں تو اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پر رکھ دے “،قوم کا سب سے بدبخت شخص عقبہ بن ابی معیط اٹھا اور اپنے ساتھیوں کی مدد سے اوجھڑی لا یااور جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو اس نے آپ کی پشت پر دونوں کندھوںکے درمیان رکھ دی ۔

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کا بیان ہے “میں یہ کریہہ منظر دیکھ رہاتھا لیکن اپنی بے بسی اور کمزوری کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کچھ مدد نہیں کرسکتا تھا اورا بوجہل اوراس کے ہمنشین اس المناک منظر دیکھ کر قہقے مارمار کر ہنس رہے تھے ،ان کی خوشی سنبھالے نہیں جارہی تھی ،وہ ایک دوسرے پر لوٹ پوٹ ہوکر ہنس رہے تھے اور اس دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم حالت سجدہ میں رب رحیم سے مناجات میں مشغول تھے اور سرمبارک کو اٹھانہیں رہے تھے

میں دوڑتا ہوا حضرت ابوبکررضی اللہ تعالی عنہ کے پاس گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نورنظر لخت جگر حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کو اس کی اطلاع دی ، ادھر سے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ دوڑتے ہوئے آئے اور ادھر سے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا روتی ہوئی آئیں اور ان دونوں نے مل کراس اوجھڑی کو ہٹا یا ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *