pastiglie tipo viagra viagra pills kamagra comprare in italia kamagra cz viagra 50 mg orosolubile super kamagra effetti collaterali viagra per migliorare prestazioni sportive se il levitra non funziona

پرانے وقتوں کی بات ہے کہ مکہ مکرمہ میں عبداللہ نامی ایک تاجر رہتا تھا

پرانے وقتوں کی بات ہے کہ مکہ مکرمہ میں عبداللہ نامی ایک تاجر رہتا تھا

لیکن رات دن کی محنت اور لگن سے اس کا کاروبار ترقی کر نے لگا قدرت بھی اس پر مہربان ہو گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کا کاروبار ملک کے تو ل و عرض میں

پھیل گیا چند سالوں میں اس کا شمار ملک کے تاجروں اور سیٹھوں میں ہونے لگا۔ دولت کا کوئی بھروسہ نہیں ہے یعنی آج ہے تو کل نہیں یہی معاملہ عبداللہ کے ساتھ بھی ہوا اس کی تجارت کو کسی کی نظر لگ گئی تھی اسے آئے دن نفع کی بجائے نقصان ہونے لگا رفتہ

رفتہ نوبت یہاں تک پہنچی کہ لاکھوں کروڑوں میں کھیلنے والا شخص کوڑی کوڑی کا محتاج ہو گیا۔ اس کی جائیدار نیلام ہو گئی جمع پونجی قرض دار لے اڑے ایک دن عبداللہ روزگار کی تلا ش میں نکلا ایک گلی سے گزرتے ہوئے اس کی نظر ایک ہار پر پڑی جو زمین پر گرا ہوا تھا اس نے لپک کر اسے اٹھا لیا وہ ایک نفیس اور قیمتی ہار تھا اس

نے سوچا کہ قدرت نے اس کی مدد کی ہے اس ہار کو فروخت کر کے وہ چند دن آرام سے گزار سکے گا لیکن جلد ہی اس نے اس خیال کو جھٹک دیا۔اس ہار کے مالک کے بارے میں سوچنے لگا کہ وہ اس کی گم شدگی پر کتنا پریشان ہو گا۔عبداللہ نے عہد کیا کہ وہ اس کے مالک کو تلاش کر کے اس کی اما نت اس کے حوالے دے گا اور

انہی سوچو میں گم تھا کہ اچانک فضا میں حرمِ کعبہ سے بلند ہوتی ظہر کی اذان گو نجی اس نے اپنا رخ اللہ کے گھر کی طرف پھیر لیا وہاں جا کر اس نے وضو کیا اور نہایت خوشی سے نماز ادا کی وہ نماز سے فارغ ہوا ہی تھا کہ اس نے ایک اعلان سنا کہ کوئی شخص کہہ رہا تھا کہ بھائیو میرا ایک قیمتی ہار کہیں گر گیا ہے۔ اگر کسی کو مل جائے تو مجھے اطلا ع کر ے اللہ کا اس پر کرم

ہو عبداللہ نے یہ اعلان سنا تو چو نکا۔اس نے اعلان کرنے والے شخص کو اشارے سے اپنی طرف بلا یا اور اس سے پو چھا کیا آپ اپنے گم شدہ کی کچھ علا مات بتا سکتے ہیں کیوں نہیں جی کیوں نہیں یہ رہیں اس ہار کی علا مات یہ کہہ کر اس نے ہار کی نشانیاں بتا نا شروع کر دیں۔

عبداللہ نے محسوس کیا کہ یہ شخص صحیح صحیح علامتیں بتا رہا ہے اور یہی اس ہار کا مالک ہےاس نے جھٹ اپنی جیب سے ہار نکا لا اور اس کے مالک کی طرف اچھال دیا مالک نے اپنے ہار کو پہچان لیا اسے چو ما عبداللہ کے ہاتھ چومے اس کی پیشانی پر بو سہ دیااور اس کے حق میں بہت سی دعائیں کی عبداللہ نے کہا کہ اس نے اس ہار کو اما نت سمجھ کر اٹھا یا اب ایسے اس کے مالک کے حوالے کر کے اس کو بھی بہت ہی زیادہ خوشی محسوس ہو رہی تھی جتنی اس کے خوشی اس کے مالک

کو اپنی گم شدہ چیز کو پا کر ہو رہی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ اس نے ہار کے مالک کے سامنے اپنی تنگ دستی کا بھی ذکر کیا ۔ اس کی انہی حالات میں شادی بھی ہو گئی جب شادی کی پہلی رات وہ اپنی بیگم کے پاس گیا اور اس کا گھو نگٹ اٹھا یا تو اس نے وہی ہار اس کے گلے میں دیکھا۔ وہی ہار چمک چمک رہا تھا جو اسے مکہ مکرمہ کی ایک گلی میں پڑا ہوا دیکھا تھا اس نے تعج

سے پوچھا کہ بیگم جان یہ ہار تم تک کیسے پہنچا دلہن بو لی میرے با با جان عمرہ کر نے کی غرض سے مکہ مکرمہ گئے تھے وہاں انہوں نے میرے لیے وہ ہار خریدا تھا وہ بتا یا کرتے تھے کہ ایک دن یہ ہار گم ہو گیا تھا جس سے وہ بہت پریشان ہو ئے تھے۔ا نہوں نے حرمِ پاک میں اس کی گم شدگی کا اعلان کیا جسے سن کر ایک نیک دل اور دیانت دار نوجوان نے یہ ہار لا کر انہیں دیا تھا با با جان اس جوان کے حق میں بہت دعائیں کیا کر تے تھے

ایک دن انہوں نے مجھے کہا کہ اللہ تجھے بھی مکہ کے اس نیک اور دیا نت دار جوان جیسا خاوند عطا فر ما ئے دلہا کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آگئے ۔ اس نے جذبا تی آواز میں کہا اری نیک بخت آپ کے با با جان کی دعا قبول ہو گئی مکہ مکرمہ کے جس جوان کو یہ گم شدہ ہار ملا تھا اور اس نے اس کے مالک تک با حفاظت پہنچا یا تھا وہ میں ہی تو تھا۔ سچ ہے کہ نیکی کبھی رائیگاں نہیں جاتی اس کا صلہ ایک نہ ایک دن ضرور ملتا ہے خواہ وہ دنیا میں ملے یا آخرت میں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *