میں کل فرنیچر والی دکان پر گیا کچھ صوفہ اور بیڈ سیٹ پسند آئے تو سوچا تصویر لے لیتا ھُوں گھر والوں کو دِکھانے کے واسطے تصویر لینے لگا تو

میں کل فرنیچر والی دکان پر گیا کچھ صوفہ اور بیڈ سیٹ پسند آئے تو سوچا تصویر لے لیتا ھُوں گھر والوں کو دِکھانے کے واسطے تصویر لینے لگا تو

دکاندار غصہ ھو گیا اور منع کر دیا، وہاں سے نکلا اور جس بھی فرنیچر والے کے پاس گیا اُس نے ایسا ھی کِیا میرے ساتھ ایسا ھی پہلے ایک دفعہ کپڑے کے بوتیک پر بھی ھُوا تھا

کہ جس بھی بوتیک پر گیا اُنہوں نے کپڑوں کی تصاویر لینے سے منع کر دیا میں نے فرنیچر والے سے وجہ پوچھی تو کہنے لگا لوگ ڈیزائن چوری کر لیتے ہیں…کہنے لگا میں پہلے سنیار کا کام بھی کرتا رھا ھُوں اور جب کبھی ہم اپنے اُستاد سے مِلنے جاتے تھے تو وہ اپنا کام بند کر کے چُھپا لیتے تھے

تا کہ ہم دیکھ کے اُس کا ڈیزائن چوری نہ کر لیں یہی دنیا کا دستور ھے جناب مجھے اِس پر ایک واقعہ یاد آ گیا اور میں نے فرنیچر والے کو سُنایا. ہمارے شہر میں خوشی برفی والا بہت مشہور ھے بہت دُور دُور سے لوگ اُس کی برفی لینے آتے ہیں کیونکہ اُس کی برفی میں ذائقہ ھی ایسا ھے

کہ میٹھے سے نفرت کرنے والا بھی بہت شوق سے اُس کی برفی کھاتا ھے ایک دفعہ لاہور میں کسی شادی پر امریکہ سے کچھ لوگ آئے ھُوئے تھے وہ تھے تو پاکستانی لاہوری لیکن بعد میں امریکہ شفٹ ھو گئے تھے تو وہاں شادی پر کوئی بندہ خوشی کی برفی لے گیا. امریکی مہمانوں نے

جب برفی کھائی تو حیران رہ گئے، کہتے ایسا ذائقہ ہم نے آج تک نہیں چکھا کسی مٹھائی کا.. وہ خوشی کی برفی کے ایسے دیوانے ھُوئے کہ مزید برفی لینے اس کے شہر پہنچ گئے لیکن معلوم پڑا کہ برفی ختم ھو گئی کیونکہ فجر کی نماز کے بعد سے صبح آٹھ نو بجے تک اُس کی جتنی بھی سات آٹھ من برفی ھوتی تھی ساری بِک جاتی تھی

اور شام بھی عصر سے عشاء تک یہی حال ھوتا تھا…وہ امریکی اِتنی زیادہ آمدن دیکھ کر حیران ھو گئے اور خوشی سے کہنے لگے ہمیں اپنی برفی کی ریسیپی دے دو ہم بھی واپس امریکہ جا کے مٹھائی کا کاروبار کریں گے وہاں بہت چلے گی تمہاری برفی گورے بہت پسند کریں گے…

خوشی نے ریسیپی لکھوائی اُنکو پکڑائی اور پھر بولا : *”دودھ_چینی_کھویا_اور_میرا_نصیب”* *آپ سب کچھ لے سکتے ہیں لیکن خوشی جیسا نصیب کہاں سے لیں گے …؟* تو میں نے اُس فرنیچر والے کو سمجھایا : ” میرے بھائی تصویر یا ڈیزائن لے جانے سے کوئی آپ کا نصیب ساتھ نہیں لے جائے گا ، ہر چیز کاپی ہو سکتی ہے لیکن آپ کا نصیب کاپی کرنے والا کیمرہ آج تک ایجاد نہیں ہوا ہے، آپ کا حصہ آپ ہی کا ہے اور یہ رزق پہاڑوں کی تہہ میں ہو تو بھی مل کر رہے گا … “

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *